ملک میں سیکولرقوتوں اور دینی قوتوں کا مقابلہ ہے سیکولر قوتوں کا قبلہ واشنگٹن جب کہ دینی قوتوںکا قبلہ مکہ ہے اور ہمیں اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت سے پورا یقین ہے کہ ہم اس معرکے میں سرخرو ہوں گے، پاکستان ایک جمہوری ملک ہے اور اس میں تبدیلی کا واحد راستہ ووٹ اور پولنگ اسٹیشن کا راستہ ہے ۔قوم بے روزگاری ، لوڈشیڈنگ ، بدامنی ، غربت اور لاقانونیت کی وجہ سے رو رہی ہے

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینٹر سراج الحق کا عید ملن پارٹی سے خطاب

پیر جون 21:20

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 جون2018ء) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے اور اس میں تبدیلی کا واحد راستہ ووٹ اور پولنگ اسٹیشن کا راستہ ہے ۔قوم بے روزگاری ، لوڈشیڈنگ ، بدامنی ، غربت اور لاقانونیت کی وجہ سے رو رہی ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ قوم پر گزشتہ 70 سالوں سے آژدھے مسلط ہیں جو ملک و قوم کی دولت لوٹ کر دبئی اور لندن کے بینکوں میں رکھتے ہیں ۔

ملک میں سیکولرقوتوں اور دینی قوتوں کا مقابلہ ہے سیکولر قوتوں کا قبلہ واشنگٹن جب کہ دینی قوتوںکا قبلہ مکہ ہے اور ہمیں اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت سے پورا یقین ہے کہ ہم اس معرکے میں سرخرو ہوں گے ۔ استعماری قوتیں پاکستان کو بھی لسانیت اور قومیت کی بنیاد پر تقسیم کرناچاہتی ہیں یہاںمسالک کی بنیادپر بھائی کوبھائی سے لڑایاجارہا ہے ۔

(جاری ہے)

پاکستان کو اس وقت ایٹم بم سے بھی زیادہ قومی یکجہتی اور اتحاد کی ضرورت ہے ۔

ہم علما کو متحد کر کے اسلام دشمن قوتوں کے ناپا ک عزائم کو خاک میں ملا دیاہے ۔۔پاکستان ہمارے لیے مسجد کی حیثیت رکھتاہے یہ ایک نظریاتی مملکت ہے جس کا تحفظ ہمارے ایمان کا حصہ ہے ۔معیشت کی تباہی اور اداروں کی بربادی کے ذمہ دار وہ کھرب بتی ہیں جنہوں نے قومی خزانے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہے ۔وہ پشاور میں متحدہ مجلس عمل این اے 28 کے زیر اہتمام عید ملن پارٹی سے خطاب کر رہے تھے ۔

عید ملن پارٹی سے صدر متحدہ مجلس عمل پشاور و امیدواراین اے 28 صابرحسین اعوان ، صوبائی امیدواران جان افضل ، مولانا سمیع اللہ جان فاروقی ، خالدوقار چمکنی ، امیر جماعت اسلامی این اے 28 افتخار خان ، خالدوقاص چمکنی اور دیگر مقررین نے بھی خطا ب کیا ۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ قوم نے ایم ایم اے پر اعتماد کیا تو ہر شہری کے لیے تعلیم ، علاج،، گھراور روزگار کی یقینی فراہمی تمام غیر ضروری ٹیکسوں کا خاتمہ اور عام افراد کے لیے بنیادی ضروریات زندگی کی قیمتوں کا مناسب ترین تعین کیا جائے گا ۔

انہوںنے کہاکہ عوام ہمیشہ سانپوں کے منہ میں دودھ ڈال کر انہیں اژدھا بنا کر ایونوں میں بھیجتے ہیں اور وہی اشرافیہ پھر عوام الناس پر ظالمانہ ٹیکس نافذ کرتے ہیں اور خود عیش و عشرت اور والی مراعات والی زندگی گزارتے ہیں اور غریب کو مسائل کی دلدل میں دھکیل دیتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں پیسے کی نہیں انصاف کی کمی ہے اور آئین و قانون پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔

پاکستان میں روزانہ بارہ ارب روپے کی کرپشن ہورہی ہے ۔ اگر وی آئی پی کلچر ، کرپشن ، اقربا پروری ، غیر قانونی ترقیاتی اخراجات کا پیسہ بچا کر عوام پر خرچ کیا جائے تو عوام کو مفت صحت ، تعلیم اور بنیادی سہولیات میسر آسکتی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ اللہ نے ہمیں موقع دیا اور ہماری حکومت آئی تو ہر بوڑھے مرد و عورت کو وظیفہ دیا جائے گا اور ہم بے روزگار نوجوانوں کو روزگار نہ ملنے تک ماہانہ بے روزگاری الائونس دیں گے ۔ گورنر ہائوس سمیت ان تمام بڑے گھروں کو ختم کر کے انہیں پانچ مرلے میں تبدیل کر کے عوام کو دے دیں گے ۔