کلثوم نواز کی حالت تشویشناک ہے ،

نواز شریف ، مریم نواز کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا مناسب وقت نہیں ، بیرسٹر علی ظفر نواز شریف اور مریم نواز کا نام ای سی ایل میں ڈالنے سے متعلق ایک کمیٹی قائم کریں گے، زلفی بخاری کا نام ای سی ایل میں نہیں تھا بلکہ بلیک لسٹ پر تھا۔بلیک لسٹ میں شامل نام کو کسی وقت بھی نکالا جا سکتا ہے، نگران وزیر اطلاعات

جمعرات جون 15:20

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) نگران وزیر اطلاعات بیرسٹر علی ظفر کا کہنا ہے کہ زلفی بخاری کا نام ای سی ایل میں نہیں تھا بلکہ بلیک لسٹ پر تھا۔بلیک لسٹ میں شامل نام کو کسی وقت بھی نکالا جا سکتا ہے۔بلیک لسٹ میں نام کسی طریقہ کار کے بغیر شامل کیا جاتا ہے۔جب کہ ای سی ایل میں شامل نام اگر نکالنا ہو تو اس کی منظوری کابینہ کمیٹی دیتی ہے اور زلفی بخاری کا نام کابینہ کمیٹی کے پاس نہیں گیا تھا۔

بیرسٹر علی ظفر کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف کی اہلیہ کی حالت اس وقت تشویشناک ہے اور وہ ملک سے باہر ہیں۔اس وقت نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا مناسب وقت نہیں ہے۔نیب نے نواز شریف اور مریم نواز کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست کی ہے تا ہم نواز شریف کی وطن واپسی پر نام ای سی ایل میں ڈالنے پر غور کریں گے۔

(جاری ہے)

نواز شریف اور مریم نواز کا نام ای سی ایل میں ڈالنے سے متعلق ایک کمیٹی قائم کریں گے۔یاد رہے زلفی بخاری کے معاملے پر گزشتہ روز نگران وزیر داخلہ اعظم خان نے بھی وضاحت دی تھی۔۔ نگراں وزیر داخلہ اعظم خان کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا ہے کہ زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کے لیے مجھے کسی نے فون نہیں کیا اور نہ ہی عمران خان سے رابطہ ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ زلفی بخاری کی جانب سے سیکرٹری داخلہ کو انڈرٹیکنگ بھیجی گئی جس میں عمرے کی ادائیگی کے لیے ایک ماہ کی اجازت مانگی گئی تھی۔ سیکرٹری داخلہ نے مجھے ایک ماہ کی درخواست دی تاہم میں نے 6 دن کی اجازت دی۔ نگراں وزیر داخلہ نے کہا کہ زلفی بخاری کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست نیب نے کی جب کہ وزارت داخلہ نے پاسپورٹ ایکٹ کے تحت زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ میں ڈالا، کسی کا نام ای سی ایل میں ڈالنا طویل مرحلہ ہے اور کابینہ سے منظوری لینا پڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا میں بہت ساری رپورٹس غلط آئیں ۔۔