سریاب قوم پرستی کا گڑھ ،ہم نے یہاں کی پسماندگی ،ناخواندگی اور انفراسٹرکچر کی بہتری کیلئے خطیر رقم خرچ کی ہے ،ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ

سریاب کے غیور عوام نیشنل پارٹی کو عام انتخابات میں بھر انداز سے کامیاب کریں گے ،سابق وزیراعلی بلوچستان تنگ نظری کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے ،ہم نے سیاسی وابستگی کو بالائے اطاق رکھ کر علاقے میں ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھایا ہے ،حاجی میرعطاء محمد بنگلزئی

جمعرات جون 21:20

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء سابق وزیراعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہاہے کہ سریاب قوم پرستی کا گڑھ ہے ہم نے یہاں کی پسماندگی ،ناخواندگی اور انفراسٹریکچر کی بہتری کیلئے خطیر رقم خرچ کی ہے ،ہمیں امید ہے کہ سریاب کے غیور عوام نیشنل پارٹی کو عام انتخابات میں بھر انداز سے کامیاب کریں گے ،یہ بات انہوں نے جمعرات کے روز کلی جیو میں ممتاز قبائلی رہنماء وٹرانسپورٹر ملک نصر اللہ دہوار کی رہائش گاہ پر عید ملن پارٹی اور سریاب میں انتخابی مہم کے آغاز کے موقع پر کارکنوں کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی ،اجتماع سے پی بی 30کے نامزدامید وار حاجی میرعطاء محمد بنگلزئی ،مرکزی رہنماء اسلم بلوچ ،حاجی عبدالواحد شاہوانی ،ملک عبدالرحمن بنگلزئی ،حاجی قائم خان سمیت دیگر رہنمائوں نے بھی خطاب کیا ،،ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہاکہ 2013ء میں جب نیشنل پارٹی نے اقتدار سنبھالا تو امن وامان کی مخدوش اور ابتر صورتحال کے باعث بلوچستان کے بڑے بڑے شہر سر شام ویران ہوجاتے تھے ،،ٹارگٹ کلنگ ،،ڈکیتی ،راہزنی سے کوئی شہر اور قصبہ محفوظ نہیں تھا ،،کوئٹہ کراچی ،،کوئٹہ جیکب آباد قومی شاہراہوں پر رات کو سفر کرنا ناممکن تھا ،بلکے دن دیہاڑے لوگوں کو گاڑیوں سے اتا ر کرنا اغواء کرنا معمول بن گیا تھا ،اسکے علاوہ ہڑتالوں کے نام پر بیس بیس دن شہروں کے دکانیں بند ہواکرتی تھیں ،ہم نے صورتحال کی بہتری کیلئے پولیس کے محکمے سے سیاسی مداخلت ختم کرکے اسے بااختیار بنایا ،انتظامیہ کو مکمل انتظامات سونپ دیئے ،سیاسی قیادت کی سنجیدہ اقدامات کے باعث امن وامان کے صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ،جب میں نے اقتدار سنبھالا تو اس سال ٹارگٹ کلنگ اور دیگر واقعات میں 286افراد قتل ہوئے اور جس سال اقتدار چھوڑا تو اس سال صرف 48افراد مارے گئے تھے ،ہم نے ایک غیر فعال حکومت کو فعال بناکر بلوچستان سے خوف و دہشت کا خاتمہ کرکے عوام کو چین وسکون دینے کی بھر پور کوشش کی ،حکومتی اقدامات کے باعث بلوچستان کے مختلف علاقوں سے نقل مکانی کرنیوالے لوگ واپس اپنے شہروں میں آکر دوبارہ بس گئے ہماری حکومت نے تعلیم کی ترقی پر خصوصی توجہ مرکوز کی ،ہماری حکومت سے پہلے بلوچستان کی تعلیم کا بجٹ صرف 4فیصد تھا ،جسے ہم نے بڑھا کر 24فیصد کردیا ،صوبے میں تین نئے میڈیکل کالج ،6نئے یونیورسٹیاں قائم کی گئیں ،12سو سے زائد اساتذہ کو خالصاً میرٹ پر نوکریاں دیکر میرٹ کی نہ صرف بنیاد رکھی تاکہ قابل اساتذہ تعلیم کے شعبے میں آنیوالی الحظاط کو ختم کرسکے ،ہم سے پہلے بلوچستان پبلک سروس کمیشن میں کرپشن ،اقربا پروری کی داستانیں زدزبان عام تھیں،ہم نے پبلک سروس کمیشن میں اصلاحات کرکے میرٹ کو یقینی بنایا ،ایک تعلیم یافتہ نوجوانوں کیلئے یہ ادارہ امید کی ایک کرن ہے ،انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ پارٹی کی کارکردگی ،قومی ویژن ،ساحل وسائل کے دفاع اور تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے عوام کے پاس جاکر پارٹی کے قومی ویژن سے انہیں متعارف کرائیں ،یہ صدی علم وہنراور جمہوریت کی صدی ہیں ،اس میں محض جذباتی نعروں سے کام بننے والا نہیں ،نیشنل پارٹی ہی موجودہ صدی کی چیلنجز کا مقابلہ کرسکتی ہیں ،اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پی بی 30کے امیدوار حاجی میر عطاء محمد بنگلزئی نے سریاب پیکج اور علاقے میں ہونیوالی ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات پیش کی اورکہاکہ ہم تنگ نظری کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے ہیں ہم نے سیاسی وابستگی کو بلاطاق رکھ کر علاقے میں ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھایا ہے ،پارٹی رہنماء اسلم بلوچ نے کہاکہ مردم شماری کے ایشو پر ایک بلوچ قوم پرست جماعت نے اخبارات میں آسمان سرپر اٹھارکھا تھا لیکن جب مردم شماری کے نتائج آئے تو اس جماعت کے قائد کے حلقہ انتخاب میں ماضی کی نسبت آبادی بڑھنے کی بجائے کم ہوئی ،عوام صرف نعرہ بازی کرنیوالے قوم پرستوں سے ہوشیار رہیں ۔