قرآنی تعلیمات میں عبادات کا جو حکم ہے انسانی فطرت کے عین مطابق ‘توحید کے تصور سے ہی نیکی اور برائی کی تمیز ممکن ہے

ضلع مفتی پونچھ مفتی عبدالرشید کا نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب

جمعہ جون 16:16

راولاکوٹ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) مفتی عبدالرشید ضلع مفتی پونچھ نے کہا ہے کہ قرآنی تعلیمات میں عبادات کا جو حکم ہے انسانی فطرت کے عین مطابق ہے توحید کے تصور سے ہی نیکی اور برائی کی تمیز ممکن ہے ۔ جس کو تزکیہ کہتے ہیں ۔ تزکیہ اچھے اخلاق کی بنیاد ہے جس سے اخوت اور بھائی چارے کی فضاء قائم ہوتی ہے معاشرے میں اعلی اقداراوررواج پاتے ہیں حسد ، بغض ، کینہ جیسی بیماریاں دور ہوتی ہیں ۔

اور اس کے نتیجے میں ایثار اور قربانی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

ان خیالات کااظہار انہوں نے جامع مسجد صدیق اکبر راولاکوٹ میں جمع کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہاکہ آج ایمان کی کمزور ی کی وجہ سے معاشرتی اور اخلاقی برائیاں عام ہیں ایمان کی پہچان نفس کے تزکیہ سے ہوتی ہے ۔تزکیہ ایمان کے اظہار اور علمی کام کا نام ہے یہ تمام عبادات کا مقصود ہے ۔ جس سے اخلاق ، اخوت ایثار کی خوبیاں پیداہوتی ہیں ، حسد ، کینہ ، بغض ، فحاشی ، عریانی ،اور بے راہ روی کا انسداد ہوتا ہے عبادات کا مقصود بھی خدا کی پہچان اور انسانیت میں عدل و انصاف قائم کرنا ہے