جہانگیر ترین سے کوئی مقابلہ نہیں ،جو شخص الیکشن نہیں لڑ سکتا ،کسی گیم میں شامل ہی نہیں اس سے مقابلہ بنتا ہی نہیں ہے، شاہ محمود قریشی

بنی گالہ کے باہر احتجاج کارکنوں کا حق ،بتایا جائے سکندر بوسن کو کون سپورٹ کر رہا ہی کون ہے جو کارکنوں کو احتجا ج پر اٴْکسا رہا ہے اتنی اخلاقی جرات ہے تو سامنے آنا چاہئے،میں اپنے کسی رشتہ دار کو اپنے نظریے پر فوقیت نہیں دوں گا، عمران خان کو وزیراعظم بنانے کیلئے خود کو قربانی کیلئے پیش کرنے کو تیار ہوں، خان صاحب خالصتاً میرٹ پر فیصلے کریں، میری طرف سے کوئی دباؤ اور لالچ نہیں ہے، ملتان میں پریس کانفرنس سے خطاب

جمعہ جون 18:18

جہانگیر ترین سے کوئی مقابلہ نہیں ،جو شخص الیکشن نہیں لڑ سکتا ،کسی گیم ..
ملتان (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ میرا جہانگیر ترین سے کوئی مقابلہ نہیں ہے ،مقابلہ سیاست میں ہوتا ہے، جو شخص الیکشن نہیں لڑ سکتا اور کسی گیم میں شامل ہی نہیں اس سے مقابلہ بنتا ہی نہیں ہے،بنی گالہ کے باہر احتجاج کارکنوں کا حق ہے ،بتایا جائے سکندر بوسن کو کون سپورٹ کر رہا ہی کون ہے جو کارکنوں کو احتجا ج پر اٴْکسا رہا ہے اتنی اخلاقی جرات ہے تو سامنے آنا چاہئے،میں اپنے کسی رشتہ دار کو اپنے نظریے پر فوقیت نہیں دوں گا، عمران خان کو وزیراعظم بنانے کیلئے خود کو قربانی کیلئے پیش کرنے کو تیار ہوں، خان صاحب خالصتاً میرٹ پر فیصلے کریں، میری طرف سے کوئی دباؤ اور لالچ نہیں ہے۔

ملتان میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہاکہ میرا جہانگیر ترین سے کوئی مقابلہ نہیں ہے، مقابلہ سیاست میں ہوتا ہے، جو شخص الیکشن نہیں لڑ سکتا اور کسی گیم میں شامل ہی نہیں اس سے مقابلہ بنتا ہی نہیں ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ کیا پاگل ہوں جو جہانگیر ترین سے مقابلہ کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ بنی گالہ کے باہر احتجاج کارکنوں کا حق ہے لیکن بتایا جائے کہ سکندر بوسن کو کون سپورٹ کر رہا ہی کون ہے جو کارکنوں کو احتجا ج پر اٴْکسا رہا ہے اتنی اخلاقی جرات ہے تو سامنے آنا چاہیے۔

پی ٹی آئی رہنما نذیر جٹ کے حوالے سے شاہ محمود قریشی نے کہاکہ انہیں پارٹی میں اسحاق خاکوانی لے کر آئے لیکن عائشہ جٹ کو صوبائی ٹکٹ کس نے دلوایا انہیں ضمنی الیکشن کس نے لڑوایا ۔انہوں نے کہا کہ میں تو عائشہ جٹ کے ضمنی الیکشن میں بھی موجود نہیں تھا لیکن نذیر جٹ نے اگر بات کی ہے تو اپنے بل بوتے پر کی ہے، ان کی اپنی ایک سوچ، سیاسی حیثیت اور ایک نام ہے، میری اس میں کوئی شرارت نہیں ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ نہ بدنیت ہوں، نہ شرارتوں کا عادی ہوں اور نہ ہی سازشی مزاج کا بندہ ہوں، میرا ایمان ہے کہ اللہ دلوں کے راز جانتا اور حقائق پہچانتا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں آپ سے فریب کر سکتا ہوں لیکن کیا اللہ سے بھی کر سکتا ہوں کیا میں اللہ سے جعلسازی کر سکتا ہوں میں جعلسازی نہیں کر سکتا کیونکہ اللہ نیتوں کے حال جانتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے کسی پر اعتراض نہیں، میں اپنے کسی رشتہ دار کو اپنے نظریے پر فوقیت نہیں دوں گا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے اصول کی سیاست کی ہے، وزارت خارجہ اور قومی اسمبلی کی نشست نظریئے کا سودا کرنے کیلئے نہیں ٹھکرائی۔انہوں نے کہا کہ حق مانگنا ہر کسی کا حق اور فیصلہ کرنا پارٹی کا حق ہے، پارٹی فیصلہ کرے گی، عمران خان فیصلہ کریں گے خوا وہ میرے عزیز کے حق میں ہو یا خلاف۔انہوں نے کہا کہ درخواست دینا، دلائل دینا ہر کسی کا حق ہے لیکن فیصلہ تسلیم کرنا پارٹی کا ڈسپلن ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کو وزیر اعظم بنانے کیلئے قربانی اور ایثار کا جذبہ ہونا چاہیے، خان صاحب کو وزیراعظم بنانے کیلئے خود کو قربانی کیلئے پیش کرنے کو تیار ہوں۔انہوں نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میرے لئے اس وقت سب سے مقدم چیز نیا پاکستان کا وژن اور آپ کی کامیابی ہے، خان صاحب، آپ خالصتاً میرٹ پر فیصلے کریں، میری طرف سے کوئی دباؤ اور لالچ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ کہ عمران خان جو بھی فیصلے کریں گے اس پر آمین کہوں گا۔