ایک اور بغاوت، سابق وفاقی وزیر نے ن لیگ کا ٹکٹ لینے سے انکار کردیا

راہیں جدا کرتے ہوئے شیخ وقاص اکرم نے ن لیگ کی جانب سے دیا گیا ٹکٹ واپس کر دیا، سابق وفاقی وزیر کو ن لیگ کی جانب سے جھنگ سے انتخاب لڑنے کیلئے ٹکٹ جاری کیا گیا تھا

muhammad ali محمد علی ہفتہ جون 21:30

ایک اور بغاوت، سابق وفاقی وزیر نے ن لیگ کا ٹکٹ لینے سے انکار کردیا
جھنگ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 جون2018ء) راہیں جدا، شیخ وقاص اکرم نے ن لیگ کی جانب سے دیا گیا ٹکٹ واپس کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ہفتے کے روز سابق وفاقی وزیر شیخ وقاص اکرم کو ن لیگ کی جانب سے جھنگ سے انتخاب لڑنے کیلئے ٹکٹ جاری کیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شیخ وقاص اکرم کو ٹکٹ کیلئے درخواست دیے بنا ہی ٹکٹ جاری کر دیا گیا۔ اب اس حوالے سے شیخ وقاص اکرم کی جانب سے ردعمل دیا گیا ہے۔

شیخ وقاص اکرم نے ن لیگ کی جانب سے دیا گیا ٹکٹ لینے سے انکار کردیا ہے۔ شیخ وقاص اکرم کا موقف ہے کہ جب انہوں نے ٹکٹ کیلئے درخواست ہی نہیں دی تو پھر وہ ٹکٹ کیسے قبول کر لیں۔ ذرائع کے مطابق شیخ وقاص اکرم جلد ن لیگ کو خیرباد کہہ سکتے ہیں۔ دوسری جانب ہفتے کے روز مسلم لیگ (ن) نے قومی اسمبلی کے لیے اپنے امیدواروں کا اعلان کردیا۔

(جاری ہے)

مسلم لیگ (ن) کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق فیصل آباد کے حلقوں این اے 106 سے رانا ثنااللہ اور این اے 108 سے عابد شیر علی الیکشن لڑیں گے جب کہ سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف سیالکوٹ کے حلقہ این اے 73 اور سابق وزیر ریلوے سعد رفیق لاہور کے حلقہ این اے 131 سے امیدوار ہوں گے۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ شہبازشریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز لاہور کے حلقہ این اے 124 اور صوبائی اسمبلی کی نشست پی پی 146 سے الیکشن لڑیں گے جب کہ مریم نواز قومی اسمبلی کے حلقے این اے 127 لاہور اور صوبائی نشست پی پی 73 لاہور سے بھی انتخابات میں حصہ لیں گی۔اعلامیے کے مطابق سابق وزیر داخلہ احسن اقبال این اے 78 نارووال اور سابق وزیر دفاع خرم دستگیر این اے 81 گوجرانوالہ سے میدان میں اتریں گے۔

ذرائع کے مطابق این اے 123 سے ملک ریاض،، این اے 125 سے ملک پرویز اور این اے 126 سے مہر اشتیاق امیدوار ہوں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ این اے 128 پر روحیل اصغر، این اے 129 پر سہیل شوکت بٹ، این اے 130 پر خواجہ احمد حسان، این اے 132 سے شہبازشریف اور این اے 133 سے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق میدان میں اتریں گے جب کہ این اے 134 سے رانا مبشر، این اے 135 سے سیف الملوک کھوکھر اور این اے 136 سے افضل کھوکھر الیکشن لڑیں گے۔

ذرائع کے مطابق این اے 133 میں زعیم قادری کی ناراضی کے بعد این اے 125 پر بھی تنازع سامنے آگیا ہے اور بلال یاسین نے اس نشست پر الیکشن لڑنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ بلال یاسین کا کہنا ہے کہ این اے 125 پر مریم نواز کے نہ آنے پر میرا حق ہے، مریم نواز این اے 125 میں ہوتیں تو پھر پی پی150 میں جاتا لیکن لندن جانے سے پہلے نواز شریف اور مریم نواز سے میری بات طے ہوچکی تھی۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی قیادت این اے 125 میں پرویز ملک کو ٹکٹ دینا چاہتی ہے لیکن حلقہ این اے 125 سے پرویز ملک بھی امیدوار ہیں اور وہ صوبائی حلقے پی پی 150 پر بھی بلال یاسین کے ساتھ الیکشن کے لیے تیار نہیں۔