ایبٹ آباد پولیس کی کاروائی بین الصوبائی کارلفٹر گروہ کے 4رکن گرفتار سرقہ شدہ 2گاڑیاں برآمد

اتوار جون 22:20

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 جون2018ء) ایبٹ آباد پولیس کی کاروائی بین الصوبائی کارلفٹر گروہ کے 4رکن گرفتار سرقہ شدہ 2گاڑیاں برآمد تفصیلات کے مطابق دو روز قبل بوقت 4 بجے صبح مسمی محمود اصغر ولد اصغر علی سکنہ لاہور نے گاڑی موٹر کار GLI نمبریLEC-2872ماڈل2016 برنگ سلور پائن ویو ہوٹل کے سامنے کھڑی کی جو کہ نامعلوم ملزمان سرقہ کر کے لے گئے ۔

مدعی کو دن 10:30بجے جاگنے پر معلوم ہوا کہ گاڑی عدم موجود ہے 11بجے تھانے پہنچ کر رپورٹ کی جس پر مقدمہ علت 179مورخہ22جون 2018جرم 381-A تھانہ ڈونگاگلی درج رجسٹرڈ کر کے تفتیش کا آغاز کیا گیا ۔ کوزہ گلی سے کالا باغ تک روڈ سائیڈ لگے CCTVکیمروں کی فوٹج حاصل کی گئی جس سے پایا گیا کہ سرقہ شدہ گاڑی کے پیچھے ایک کالے رنگ کی XLIگاڑی بھی مسلسل موجود ہے ۔

(جاری ہے)

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سید اشفاق انور کی ہدایت پر ڈی ایس پی گلیات رضوان حبیب کی زیر نگرانی مختلف زاویوں سے تفتیش کا آغاز کیا مختلف ذرائع سے انفارمشن حاصل کی ۔

حاصل شدہ انفارمشن اور تفتیش کے بعد ایس ایچ او تھانہ ڈونگاگلی گوہر الرحمن اور انچارج چوکی نتھیا گلی زبیر خان نے زیر نگرانی ڈی ایس پی گلیات رضوان حبیب معہ نفری کے مکول روڈ نزد نگری پائین ناکہ بندی پر حویلیاں کی جانب سے GLIگاڑی متزکرہ سرقہ شدہ جس کو 178 LEDکا جعلی نمبر لگایا ہوا تھا جس کے عقب میں کالے رنگ کی XLIنمبر AN-550 موجود پائی GLI کی ڈرائیونگ مظہرو لد سرور قووم اعوان سکنہ مین گیٹ نواں شہر جس کے ہمراہ سبطین شاہ ولد مظہر شاہ قوم سید سکنہ منن ہریپور بیٹھا تھا اسی طرح XLIبرنگ سیاہ جس کی ڈرائیونگ موسی خان ولد عبدالرحیم قوم اعوان سکنہ مظفر آباد کر رہا تھا جس کے ساتھ شیرا ز ولد سرور شاہ قوم سکنہ چارسدہ گاڑی میں بیٹھا تھا ۔

جعلی نمبر اور CCTVفوٹج سے حاصل شدہ اور سورس انفارمشن کے مطابق ملزمان کو قابو میں کر کے حراست میں لیا گیا اور گاڑیاں قبضہ پولیس کی گئیں۔ ملزمان کو تھانہ لا کر باقاعدہ انٹروگیٹ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ ہر دو گاڑیاں سرقہ کی ہیں سلور کلر GLIانہوں نے مورخہ22جون کو کوزہ گلی سے سرقہ کی تھی جس کو پشاور لے جا کر انجن چیسس نمبر تبدیل کر کے مری میں فروخت کے لیے لے جارہے تھے مزید انٹاروگیشن پر معلو م ہوا کہ جملہ مشتبہ گان /ملزمان کا ایک منظم کار لفٹر گروہ ہے مذکورہ گروہ پنجاب ، مری ، ہزارہ ، نتھیاگلی و کشمیر وغیرہ سے گاڑیاں سرقہ کرتا ہے اور ایک منظم طریقہ سے گاڑیوں کو پشاور لے جایا جاتا ہے ۔

رنگ روڈ پشاور میں ایوب نامی شخص کے پاس گاڑیاں لے جائے جاتی ہیں جو مبلغ 25ہزار روپے میں گاڑیوں کے انجن و چیسس نمبر اور چیسس پتری نئی لگا دیتا ہے مذکورہ نیٹ ورک ایک منظم طریقہ سے کام کرتا ہے اس گروہ میں اویس ولد سکندر سکنہ بادامی باغ لاہور ، زاہد ولد غنی گل سکنہ بٹ خیلہ ، نیاز علی ولد محمد سکنہ چارسدہ ہال گلشن اقبال سپلائی ان سے چوری شدہ گاڑیاں جن کے انجن چیسس تبدیل ہو چکے ہوتے ہیں 3/4لاکھ میں خرید لیتے ہیں اور نان کسٹم ایریا میں فروخت کر دیتے ہیں ۔

اب تک کے انکشافات سے ملزمان نے گجر خان سے 2گاڑیاں، مری سی2 گاڑیاں جبکہ گلیات سے متزکرہ بر آمدہ گاڑی کے سرقہ کرنے کا انکشاف کیا ہے متزکرہ ملزمان کے خلاف قبل ازیں ہزارہ اور کے پی کے اور پنجاب کے مختلف تھانہ جات میں گاڑیاں سرقہ کرنے کے مقدمات رجسٹرڈ ہیں ۔ مزید تفتیش جاری ہے انکشافات کی توقع ہے۔