بین الاقوامی ادارے عالمی انویسٹمنٹ بینک کریڈٹ سوئس نے پاکستان کے عام انتخابات میں تحریک انصاف کی فتح کی پیشن گوئی کردی

آئندہ الیکشن میں کوئی بھی پارٹی واضح اکثریت حاصل نہیں کرسکے گی، تاہم تحریک انصاف کو مسلم لیگ ن پر برتری حاصل ہوگی: تجزیاتی رپورٹ

muhammad ali محمد علی بدھ جولائی 19:43

بین الاقوامی ادارے عالمی انویسٹمنٹ بینک کریڈٹ سوئس نے پاکستان کے عام ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 جولائی2018ء) بین الاقوامی ادارے عالمی انویسٹمنٹ بینک کریڈٹ سوئس نے پاکستان کے عام انتخابات میں تحریک انصاف کی فتح کی پیشن گوئی کردی، آئندہ الیکشن میں کوئی بھی پارٹی واضح اکثریت حاصل نہیں کرسکے گی، تاہم تحریک انصاف کو مسلم لیگ ن پر برتری حاصل ہوگی، تجزیاتی رپورٹ۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان میں عام انتخابات کے انعقاد میں محض چند روز باقی ہیں۔

ایسے میں جہاں تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھرپور تیاریاں کی جا رہی ہیں، وہیں دوسری جانب سیاسی جماعتوں کی عوامی مقبولیت کے حوالے سے مختلف اداروں کی جانب سے کیے جانے والے سرویز کے نتائج بھی جاری کیے جا رہے ہیں۔ اب ایک بین الاقوامی ادارے عالمی انویسٹمنٹ بینک کریڈٹ سوئس نے بھی پاکستان کے عام انتخابات 2018 کے حوالے سے تجزیاتی رپورٹ جاری کی ہے۔

(جاری ہے)

بین الاقوامی ادارے عالمی انویسٹمنٹ بینک کریڈٹ سوئس نے پاکستان کے عام انتخابات میں تحریک انصاف کی فتح کی پیشن گوئی کردی ہے۔ بین الاقوامی ادارے عالمی انویسٹمنٹ بینک کریڈٹ سوئس کی جانب سے جاری کردہ تجزیاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آئندہ الیکشن میں کوئی بھی پارٹی واضح اکثریت حاصل نہیں کرسکے گی، تاہم تحریک انصاف کو مسلم لیگ ن پر برتری حاصل ہوگی۔

کریڈٹ سوئس کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی پارٹی صدارت ختم ہونے سے پی ٹی آئی کو موقع ملا، اس لئے اس بات کے امکانات بہت زیادہ ہیں کہ پی ٹی آئی کو پاکستان مسلم لیگ ن پر برتری مل جائے۔پاکستان تحریک انصاف 34 فیصد یا 92 قومی اسمبلی کی نشستوں کے ساتھ اول نمبر پر جبکہ مسلم لیگ ن قومی اسمبلی کی 27 فیصد یا 73 سیٹوں کے دوسرے نمبر پر آسکتی ہے۔ پی ٹی آئی کامیابی کی صورت میں اتحادی حکومت بنا سکتی ہے مگر اس بات کے امکانات 60 فیصد ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 15 فیصد امکانات ہیں کہ عمران خان حکومت بنانے کے لئے پیپلز پارٹی سے مدد مانگیں۔ کریڈٹ سوئس نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ آئندہ حکومت کو آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑ سکتا ہے کیونکہ زرمبادلہ کے ذخائر 2 ماہ کی درآمدات کے لئے ناکافی ہیں اور جاری کھاتوں کا خسارہ گیارہ ماہ میں 16 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔