جمہوریت کیلئے آٴواز اٹھانے پر مجھے دہشتگرد کیونکر ٹارگٹ کر سکتے ہیں،میاں افتخار حسین

اتوار اگست 23:10

پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 اگست2018ء) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ میدان میں کھڑا ہوں اور تھرٹ الرت کے ذریعے دھمکیاں دینے والے ہمیں ڈرنے اور جھکنے پر مجبور نہیں کر سکتے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے یوم شہدائے بابڑہ کے موقع پر چارسدہ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے خود کش حملوں کے تھرت الرت جاری کئے جا رہے ہیں جو سمجھ سے بالاتر ہے ، انہوں نے کہا کہ پہلے میں دہشت گردی کے خلاف بات کرتا تو مجھے سیکورٹی تھرٹ مل جاتا لیکن اب دہشت گردوں کو کیا پرابلم ہے، اب جب ہم دھاندلی کے خلاف اور جمہوریت کی بحالی کیلئے آواز اٹھاتے ہیں تو دہشت گردوں کو کیا مسئلہ درپیش ہے ، انہوں نے کہا کہ یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے جس کا جواب شاید کسی کے پاس نہ ہو ، میاں افتخار حسین نے واضح کیا کہ میڈیا پر ہماری بات نہیں آ رہی کیونکہ سارا الیکٹرانک میڈیا ان کے کنٹرول میں ہے،انہوں نے کہا کہ الیکشن سے قبل تھرٹ ملنے کا مقصد یہ تھا کہ ہمیں الیکشن سے باہر کیا جائے لیکن اب دھمکیاں دینے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے ، انہوں نے کہا کہ حالات و واقعات اس جانب واضح اشارہ کر رہے ہیں کہ موجودہ حکومت ہی در اصل دہشت گردوں کی حکومت ہے ، انہوں نے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے دعوے کرنے والے بتائیں کہ دہشت گردی ختم ہو چکی ہے تو پھر مجھے ٹارگٹ کرنے والے کون ہیں انہوں نے کہا کہ دھمکیوں کے باوجود جان ہتھیلی پر رکھ کر بابڑہ کے شہداء کو خراج عقیدت اور سلام پیش کرنے کی غرض سے حاضر ہوا ہوں،میاں افتخار حسین نے کہا کہ میں اس ماہ اپنے ذاتی پروگرام کے تحت راشد شہید فاؤنڈیشن کیلئے بیرون ملک دورے پر جا رہا تھا جو ان تھرٹ الرٹس کے بعد ملتوی کر دیا ہے تاکہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ میں دھمکیوں کے ڈر سے بیرون ملک چلا گیا ہوں ، انہوں نے کہا کہ ہم باچا خان بابا کے سپاہی ہیں اور ہمیں دھمکیوں کے ذریعے دیوار سے نہیں لگایا جاسکتا۔