نواز شریف کی رہائی سے قبل جیل سپریٹنڈنٹ کے کمرے میں حنیف عباسی کی موجودگی نے سوالات کھڑے کر دئے

حنیف عباسی مجرم ہیں اور سزا کاٹ رہے ہیں، وہ کس حیثیت میں نواز شریف کے ساتھ موجود تھے؟

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعرات ستمبر 13:18

نواز شریف کی رہائی سے قبل جیل سپریٹنڈنٹ کے کمرے میں حنیف عباسی کی موجودگی ..
راولپنڈی (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 20 ستمبر 2018ء) : اسلام آباد ہائیکورٹ نے گذشتہ روز سابق وزیراعظم نواز شریف ، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کی سزا معطل کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا اور قیدیوں کو 5،5 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم بھی دیا۔ نواز شریف ، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کی رہائی کا پروانہ ملتے ہی مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف اور چند رہنما اڈیالہ جیل روانہ ہو گئے۔

اڈیالہ جیل کے اندر جیل سپریٹنڈنٹ کے کمرے میں نواز شریف نے مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کے ساتھ تصاویر بنوائیں۔اس موقع پر مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے قانون کی دھجیاں اُڑا دیں۔ جیل کے اندر کھینچی گئی تصاویر میں ایفی ڈرین کیس میں اڈیالہ جیل میں قید حنیف عباسی کو بھی نواز شریف کے ہمراہ جیل سپریٹنڈنٹ کے کمرے میں دیکھا گیا۔

(جاری ہے)

میڈیا رپورٹ کے مطابق جس وقت سابق وزیراعظم نواز شریف کی رہائی کے معاملات چل رہے تھے اس وقت حنیف عباسی جیل سپریٹنڈنٹ کے دفتر میں نواز شریف کے اور دیگر پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ موجود تھے، اب سوال یہ اُٹھتا ہے کہ آخر حنیف عباسی کس حیثیت میں جیل سپریٹنڈنٹ کے دفترمیں موجود تھے؟جیل قواعد کے مطابق عمر قید کے مجرم سے ملاقات کا وقت شام چار بجے تک ہوتا ہے، ایسے میں حنیف عباسی کیسے نواز شریف سے ملنے چلے گئے؟ ان تصاویر کو دیکھ کر سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے اور قانون کی دھجیاں اُڑانے پر مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی حنیف عباسی سے متعلق سینئیر تجزیہ کار ذوالفقار راحت کا کہنا تھا کہ حنیف عباسی کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں جو ایفی ڈرین کیس میں سزا کاٹ رہے ہیں۔ حنیف عباسی کی جیل کے اندر کافی موجیں ہیں۔ سعید اللہ گوندل جیل سپریٹنڈنٹ ہیں۔اور کہا یہ جا رہا ہے کہ ایسا لگ رہا ہے کہ خود حنیف عباسی ہی جیل سپریٹنڈنٹ ہیں۔ گذشتہ دنوں میں ایک صحافی نے دیکھا کہ حنیف عباسی کی ان کے کمرے میں ملاقات کروائی جا رہی ہے،ان کے کپڑے بھی قیدیوں والے نہیں تھے۔

صحافی نے ان سے سوال کیا کہ آپ نے قیدیوں والے کپڑے نہیں پہنے ، جس پر انہوں نے بد تمیزی کی۔ صحافی نے جیل سپریٹنڈنٹ سے کہا کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ آپ سپریٹنڈنٹ ہیں یا پھر حنیف عباسی؟ جس پر حنیف عباسی نے آگے بڑھ کر کہا کہ میں سپریٹنڈنٹ ہوں۔