سپریم کورٹ، سرکاری اخراجات کے ذریعے ذاتی تشہیر کیس میں شہباز شریف کے وکیل کی اپنے موکل سے مشاورت کے لئے مہلت دینے کی استدعا منظور

منگل ستمبر 23:13

سپریم کورٹ، سرکاری اخراجات کے ذریعے ذاتی تشہیر کیس میں شہباز شریف کے ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 ستمبر2018ء) سپریم کورٹ نے سرکاری اخراجات کے ذریعے ذاتی تشہیر کرانے سے متعلق کیس میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے وکیل کو اپنے موکل سے مشاورت کے لئے مہلت دینے کی استدعا منظورکرتے ہوئے قراردیا ہے کہ ذاتی تشہیر کے لئے سرکاری وسائل کا استعمال پری پول رگنگ ہوتی ہے جس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

منگل کوچیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے سابق وزیراعلٰی شہباز شریف کے وکیل شاہد حامد سے کہا کہ سابق وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے ایک معاملے میں عدالت کو 55 لاکھ روپے کا چیک پیش کیا تھا جو بعد ازاں وکیل عاصمہ حامد نے واپس لے لیا تھا، وہ چیک عدالت کو واپس کیا جائے تاکہ سند رہے۔

(جاری ہے)

جس پرفاضل وکیل شاہد حامد نے چیف جسٹس کو چیک پیش کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے خود اسے واپس کیا تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عاصمہ حامد نے لڑ جھگڑ کر چیک واپس لیا تھا، آپ ہمیں بتائیں کہ آپ کے موکل شہباز شریف ڈیم فنڈ میں کتنی رقم دیں گے، وہ ڈیم کو تو تسلیم نہیں کر رہے، انہیں کہیں کہ ڈیم نہیں توکہیں چھپڑ ہی بنا دیں، ڈیم میں شہباز شریف پیسے نہیں دینا چاہتے توبے شک نہ دیں لیکن انتخابات سے قبل سرکاری وسائل کے ذریعے اشتہاری مہم پری پول دھاندلی تھی۔

جس پرشاہد حامد نے کہا کہ ن لیگ نے ڈیم کے لئے ایک سو بائیس ارب روپے واپڈا کو دئیے تھے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ عوام کا پیسہ ذاتی تشہیر کے لئے استعمال ہوا ہے، اس لئے عوام کا پیسہ واپس کیا جانا چاہیئے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے شاہد حامد سے کہاکہ شہباز شریف کا موقف یہ تھا کہ اشتہار پر تصویر لگانے کی ممانعت نہیں۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ شہباز شریف نے رضا کارانہ طور پر رقم واپس کرنے کا چیک دیا تھا، انہوں نے پچپن لاکھ کا چیک عدالت میں لہرایا تھا، لگتا ہے شہباز شریف نے پوائنٹ سکورنگ کے لیے چیک دیا تھا۔

اس موقع پر عدالت میں شہباز شریف کی تصویر والا اشتہار چلا لیتے ہیں، آپ خود دیکھ لیں، جس پرفاضل وکیل نے کہاکہ عدالت میں اشتہار چلانا مناسب نہیں ہو گا لیکن یہ اشتہارات صرف پنجاب میں نہیں چلے،ایسے اشتہارات دوسرے صوبوں میں بھی چلے۔ جس پر جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آپ نشاندہی کریں توہم دوسرے صوبوں کا معاملہ بھی دیکھیں گے لیکن یہ یادرکھیں کہ چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا نے اشتہارات کا پلندہ پیش کیا تھا کہ ذاتی تشہیر نہیں ہوئی، یہ قوم کے پیسے تھے، ذاتی تشہیر کا پیسہ جیب سے دیا گیا ہے ، حکومت کے پیسے سے ایسی تشہیر نہیں ہو گی، چار چار منٹ کے اشتہار چلتے رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے فاضل وکیل کوہدایت کی کہ وہ اپنے موکل سے ہدایات لے کرعدالت کو بتا دیں کہ کتنے پیسے انہوں نے دینے ہیں، وہ رقم واپس کرنا چاہتے ہیں یا مقدمہ لڑنا چاہتے ہیں۔ بعدازاں مزید سماعت ملتوی کردی گئی۔