اسلام آباد پولیس کو جدید خطوط پر استوار کر کے مراعات اور سہولیات میں اضافہ کیا جائیگا،شہریار خان آفریدی

کسی بھی مذہب، فرقے اور عقیدے سے تعلق رکھنے والے شہری کی جان، مال اور عزت و آبرو کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے جسے پورا کیا جائیگا،وزیراعظم جلد پولیس کیلئے خصوصی پیکیج کا اعلان کریں گے، شہداء کے لواحقین کو سلام پیش کرتے ہیں ، ان کی تمام ضروریات کو پورا کیا جائیگا، وزیر مملکت داخلہ کا تقریب سے خطاب

پیر نومبر 22:31

اسلام آباد پولیس کو جدید خطوط پر استوار کر کے مراعات اور سہولیات میں ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 نومبر2018ء) وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار خان آفریدی نے کہا ہے کہ اسلام آباد پولیس کو جدید خطوط پر استوار کر کے مراعات اور سہولیات میں اضافہ کیا جائیگا،حکومت ملک کو محفوظ بنانے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے گی، کسی بھی مذہب، فرقے اور عقیدے سے تعلق رکھنے والے شہری کی جان، مال اور عزت و آبرو کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے ،ریاست اپنی ذمہ داری پوری کریگی،وزیراعظم جلد پولیس کیلئے خصوصی پیکیج کا اعلان کریں گے، شہداء کے لواحقین کو سلام پیش کرتے ہیں ، ان کی تمام ضروریات کو پورا کیا جائے گا۔

وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار خان آفریدی نے یہ بات پیر کو پولیس کے شہدا کے لواحقین کو چیکس دینے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ شہداء کو جتنا بھی خراج عقیدت پیش کیا جائے کم ہے، الله تعالی سے دعا ہے کہ شہداء کے درجات بلند کرے۔ ان کے ورثاء اور اہل خانہ کے دکھ تکلیف اور کرب کا احساس ہے، پاکستانی ماؤں کا جذبہ قابل قدر ہے، بلوچستان میں ایک ماں کا ایک بیٹا شہید ہوا تو اس نے دوسرے کو فورس میں بھجوا دیا، وہ شہید ہوا تو تیسرے کو بھجوا دیا اور کہا کہ میرے دس بیٹے بھی ہوتے تو وطن کیلئے حاضر کر دیتی۔

پوری قوم کی طرف سے ایسی ماؤں بہنوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔ وزیرِ مملکت برائے داخلہ نے اپنے بھائی کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ شہدا کے اہل خانہ کے دکھ درد کو سمجھتے اور محسوس کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد پولیس کے جوانوں اور شہداء اور ان کے اہل خانہ کو عزت دیں گے اور پولیس کی تمام ضرورت کو پورا کیا جائے گا۔ بدقسمتی سے پولیس پر الزامات تو بہت لگائے جاتے ہیں لیکن انہیں وہ سہولیات مراعات اور عزت نہیں دی جاتی جس کے وہ مستحق ہیں، پولیس ایکٹ پر کام شروع ہو چکا ہے، کے پی کے طرز کی اصلاحات اسلام آباد پولیس میں بھی کی جائیں گی۔

انہوں نے ہدایت کی کہ پولیس کے جوانوں کی افسران بالا تک 24 گھنٹے آسان رسائی ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ شہدا کے لواحقین کے لئے ان کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں وہ جب چاہیں مل سکتے ہیں، ان کی دیکھ بھال ریاست کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد پولیس کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا اور پولیس کی مراعات اور سہولیات میں اضافہ کیا جائے گا۔

اسلام آباد پولیس کے اپنے ٹیکنیکل اور انٹیلی جنس سکول بنائے جائیں گے، استعداد کار میں اضافہ کریں گے تاکہ پنجاب اور کے پی کے سے خدمات مستعار نہ کرنا پڑیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم جلد پولیس کے حوالے سے خصوصی پیکیج کا اعلان کریں گے، حکومت ملک کو محفوظ بنانے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے گی، کسی بھی مذہب، فرقے اور عقیدے سے تعلق رکھنے والے شہری کی جان، مال اور عزت و آبرو کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے اور ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرے گی۔

اس موقع پر آئی جی پولیس عامر ذوالفقار خان نے بتایا کہ اسلام آباد پولیس کے 41 جوان اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں، شہدا کے بغیر پاکستان کی تاریخ نامکمل ہے، پنجاب اور کے پی کے کے مقابلے میں اسلام آباد پولیس کے شہدا کا پیکیج بہت کم ہے، اسے بڑھایا جائے اور صوبوں کے برابر کیا جائے۔ شہداء کے نام سے سڑکیں منسوب کی جائیں اور اسلام آباد پولیس اپنے شہدا کے لواحقین کے گھروں کے باہر پینا فلیکس بورڈ لگائے گی۔ تقریب میں شہداء کے اہل خانہ نے شرکت کی۔ وزیر مملکت نے شہداء کے لواحقین میں چیکس تقسیم کئے۔