شہباز شریف کی پیشی پر لیگی رہنماؤں کی عدم حاضری نے قیادت کو پریشان کر دیا

ن لیگی ارکان اسمبلی نے پارٹی قیادت کے احکامات کو نظر انداز کرنا شروع کر دیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین بدھ نومبر 11:14

شہباز شریف کی پیشی پر لیگی رہنماؤں کی عدم حاضری نے قیادت کو پریشان کر ..
لاہور(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 14 نومبر 2018ء) : مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نیب کی حراست میں ہیں جنہیں نیب کورٹ پیش کیا جاتا ہے جہاں ان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا جاتا ہے۔ مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کی عدالت میں پیشی کے موقع پر مسلم لیگ ن کے ارکان احتساب عدالت کے باہر نعرے بازی کرتے اور شہباز شریف کی گرفتاری پر احتجاج کرتے تھے لیکن دن بدن احتساب عدالت کے باہر آنے والے مسلم لیگ ن کے کارکنان کی تعداد میں کمی دیکھنے میں آرہی ہے جس نے پارٹی قیادت کو پریشان کر دیا ہے۔

یہی نہیں بلکہ مسلم لیگن کے ارکان اسمبلی نے پارٹی قیادت کے احکامات بھی نظرانداز کرنا شروع کر دئیے ہیں جس نے پارٹی قیادت کو نئی پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ 10 نومبر کو لاہور کی احتساب عدالت میں پارٹی صدر شہباز شریف کو پیش کیا گیا لیکن اہم لیگی رہنما غائب رہے۔

(جاری ہے)

خواجہ سعد رفیق،ایاز صادق ،خواجہ احمد حسان عدالت نہیں پہنچے ، روحیل اصغر، بلال یاسین، رانا مشہود نے بھی پہنچنا گوارہ نہیں کیا۔

سمیع اﷲ خان، خواجہ سلمان رفیق، رمضان صدیق بھٹی بھی اپنے پارٹی صدر سے اظہار یکجہتی کے لئے عدالت نہیں آئے، میاں نصیر احمد ،ملک غلام حبیب اعوان، کرنل (ر) طارق، سہیل شوکت بٹ بھی عدالت نہیں آئے۔ شہباز شریف کی پیشی پر ارکان کے رویے نے قیادت کو مزید پریشان کر دیا ہے۔ اس سارے معاملے کو دیکھتے ہوئے حمزہ شہباز نے شہباز شریف کی پیشی کے موقع پر عدالت نہ پہنچنے والے لیگی ارکان اسمبلی کے نام بھی طلب کر لیے ہیں۔

دوسری جانب مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی ممکنہ گرفتاری کے پیش نظر مسلم لیگ ن کے کئی گروپس متحرک ہو گئے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے اندر کئی سینئیر رہنما بھی اس تشویش میں مبتلا ہیں کہ شہباز شریف پہلے ہی نیب کی حراست میں ہیں اور اگر نواز شریف کو بھی گرفتار کر لیا گیا تو ایسے حالات میں پارٹی کی کمان کون سنبھالے گا، ایسے نازک حالات میں پارٹی کو متحد رکھنا بھی پارٹی کے سینئیر رہنماؤں کے لیے بلا شبہ کسی چیلنج سے کم نہیں ہو گا۔

شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد اب نواز شریف کی ممکنہ گرفتاری کی چہ مگوئیاں سُن کر مسلم لیگ ن میں ایک فارورڈ بلاک بننے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے جس سے پارٹی بکھرنے کا خدشہ ہے اور ہو سکتا ہے کہ مسلم لیگ ن کا سیاسی سفر بھی اختتام پذیر ہو جائے۔اس کے علاوہ لیگی ارکان اسمبلی کی جانب سے پارٹی قیادت کے احکامات کو نظر انداز کرنا اور ان پر عمل نہ کرنا سینیٹ انتخابات میں بھی مسلم لیگ ن کو نقصان پہنچا سکتا ہے تاہم اس معاملے پر پارٹی قیادت نے غور و خوض شروع کر دیا ہے۔