پاکستان تحریک انصاف بھی مسلم لیگ ن کے نقش قدم پر چلنے لگی

پشاورمیٹرومنصوبے کی لاگت میں 40 فیصد اضافہ ہونے کا انکشاف

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین بدھ نومبر 12:16

پاکستان تحریک انصاف بھی مسلم لیگ ن کے نقش قدم پر چلنے لگی
پشاور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 14 نومبر 2018ء) : پاکستان تحریک انصاف نے مہنگے ترین پراجیکٹس بنانے اور عوام کی تعلیم و صحت پر توجہ نہ دینے پر مسلم لیگ ن کی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور کہا تھا کہ عوام کو بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کے باوجود مسلم لیگ ن مہنگے ترین پراجیکٹس پر پیسے لگا رہی ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ تاہم اب پشاور میٹروبس منصوبے کی لاگت میں بھی 40 فیصد اضافہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پشاور میٹرو منصوبے کی لاگت میں 19 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ جس کے تحت اب وفاقی حکومت نے اس منصوبہ کے لیے 40 فیصد اضافی فنڈز کی فراہمی کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) کا اجلاس طلب کیا گیا، ایکنک کا اجلاس آج وفاقی وزیرخزانہ اسد عمر کی زیر صدارت ہو گا جس میں پشاور میٹرومنصوبے کی نظرثانی شدہ لاگت میں 40 فیصد اضافہ اور دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیے درکار بجلی کی فراہمی کے لیے 5ارب روپے کی لاگت سے ایک چھوٹے ڈیم کی بھی منظوری دی جائے گی ۔

(جاری ہے)

ایکنک کے سات نکاتی ایجنڈا کے مطابق ایکنک پشاور میٹرو بس منصوبے کی نظرثانی شدہ لاگت 49 ارب روپے سے بڑھ کر 68 ارب روپے ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جوکہ منصوبے کی کُل لاگت کا 40 فیصد اضافہ ہے ۔ اس منصوبے کے نظرثانی شدہ پی سی ون میں 13ارب روپے خیبرپختونخواہ حکومت ، 37 ارب روپے ایشیائی ترقیاتی بنک (اے ڈی بی ) اور 18ارب روپے فرانسیسی امدادی ایجنسی (اے ایف ڈی ) مہیاکرے گی ۔

منصوبہ فروری 2019ء تک مکمل ہو جائے گا۔ میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایکنک اس کے علاوہ دیامر بھاشا ڈیم کو تعمیراتی مقاصد کے لیے بجلی کی فراہمی کے لیے 5 ارب روپے کی لاگت سے تنگیر ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی بھی منظوری دی جائے گی جس سے 15میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی ۔ پشاور میٹرومنصوبے کی لاگت میں 40 فیصد اضافہ ہونے کے انکشاف کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بھی گذشتہ حکومتوں کی طرز پر چل رہی ہے، تبدیلی کے دعویداروں کو چاہئیے کہ ملک میں حقیقی تبدیلی لائیں۔