چوروں لٹیروں نے ملکی معیشت کو پراگندہ کیا جس کو ٹھیک کرنے کیلئے 100 دن ناکافی‘ کم از کم ایک سال لگے گا،

فالودہ‘ سکنجبین اور ویلڈنگ والوں کے سر پر کھیلنے والے جیل کی ہوا کھائیں گے،آئندہ سال مارچ تک جھاڑو پھر جائے گا،لوٹی ہوئی دولت کی واپسی آسان کام نہیں لیکن کچھ ملکوں سے اطلاع ہے کہ لوٹی ہوئی دولت واپس آرہی ہے،چوہدری نثار علی خاں مسلم لیگ(ن) یا پی ٹی آئی میں نہیں جا رہے ،وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید ا حمد کی ریلوے ہیڈ کوارٹرز میں میڈیا سے گفتگو

ہفتہ نومبر 20:29

چوروں لٹیروں نے ملکی معیشت کو پراگندہ کیا جس کو ٹھیک کرنے کیلئے 100 دن ..
لاہور۔17 نومبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 نومبر2018ء) وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید ا حمدنے کہا ہے کہ چوروں لٹیروں نے ملکی معیشت کو پراگندہ کیاجس کو ٹھیک کرنے کے لئے 100 دن ناکافی‘ کم از کم ایک سال لگے گا،فالودہ‘سکنجبین اور ویلڈنگ والوں کے سر پر کھیلنے والے جیل کی ہوا کھائیں گے،آئندہ سال مارچ تک جھاڑو پھر جائے گا،لوٹی ہوئی دولت کی واپسی آسان کام نہیں لیکن کچھ ملکوں سے اطلاع ہے کہ لوٹی ہوئی دولت واپس آرہی ہے،چوہدری نثار علی خاں مسلم لیگ(ن) یا پی ٹی آئی میں نہیں جا رہے۔

وہ ہفتہ کے روز ریلوے ہیڈ کوارٹرزلاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔اس موقع پر دیگر ریلوے افسران بھی موجود تھے۔وفاقی وزیر ریلوے نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں وزیراعظم عمران خان جس طرح معاملات کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں وہ ایک مثال ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کا چین کا دورہ جتنا کامیاب رہا ایسا کامیاب دورہ میں نے زندگی میں نہیں دیکھا،حالیہ چین کے دورہ کے موقع پر خواہش سے زیادہ پاکستان کو چین کی طرف سے ملا جس کا جلد اعلان آ جائے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ شالیمار ہسپتال‘رائل پام اور بزنس ٹرین کے کیسز کو فاسٹ ٹریک پر لے جانے کے لئے نیب کو درخواست کر رہے ہیں جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان کے سامنے بھی سیکرٹری ریلوے‘جی ایم ریلوے کے ساتھ پیش ہوکر ریلوے کو لوٹنے والوں کے خلاف کارروائی کی استدعا کریں گے،وفاقی وزیر نے کہاکہ گزشتہ سال ریل کاپ کی آمدن 50کروڑ روپے تھی اسے اب ایک ارب روپے کا ٹارگٹ دیا ہے،انہوں نے کہاکہ جو افسر فیلڈ میں نہیں جائے گا اور مینٹیننس انسپکشن نہیں کرے گا وہ پاکستان ریلوے میں نہیں رہے گا۔

انہوں نے بتایا کہ سی پیک کی ٹیم ایک دو روز میں لاہور آرہی ہے‘ جس کے ساتھ ایم ایل ون کے سلسلے میں میٹنگ ہو گی،انہوں نے کہا کہ جلد ایم ایل ون کا ڈیزائن مل جائے جس پر اب تک 4ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ خواہش کہ ایم ایل ون چین کو دیں تاہم یہ فیصلہ وزیراعظم کریں گے۔شیخ رشید نے کہا کہ چینی وزیر نے کہا ہے کہ چین ایم ایل ٹو اور ایم ایل تھری کا ڈیزائن اور ابتدائی فزیبلٹی سٹڈی مفت کر کے دے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ روہڑی ریلوے اسٹیشن پر نیا پلیٹ فارم بنا رہے ہیں کیونکہ پاکستان میں سب سے زیادہ ٹرینیں روہڑی میں کھڑی ہوتی ہیں،ریلوے اسٹیشن پر 100 دوکانیں اور پلازہ بھی بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ریلوے میںسب انجینئرز کی پوسٹوں کا اشتہار آچکا ہے جبکہ 11 ہزار خالی آسامیوں کی میرٹ پر تقرری کے لئے 21 نومبر کو اشتہار آجائے گا،معذور افراد کے لئے ریلوے اسٹیشنوں پر سہولت دینے جا رہے ہیں جبکہ ٹرینوں میں بھی ان کے لئے باتھ رومز بنائے جارہے ہیں،25 دسمبر سے ہونے والی موسم سرما کی چھٹیوں میں طلباء کو تمام ٹرینوں میں 50 فیصد رعایت دے رہے ہیں اور یہ رعایت 10جنوری تک ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر نے کہا کہ اس وقت کوئی ٹرین ایسی نہیں جو فیول کا خرچ پورا نہ کر رہی ہو،7 دن کے اندر ٹرینیں منافع میں جائیں گی‘اس کے بعد فریٹ سیکٹر پر پوری توجہ ہو گی،انہوں نے کہا کہ لاہور سے فیصل آباد چلائی جانیوالی نان سٹاپ ٹرین کو ملتان تک توسیع دی جا رہی ہے،انہوں نے کہا کہ 100روز کے ٹارگٹ میں 10نئی ٹرینیں چلانے کا ٹارگٹ تھا جن میں سے 6چلا دی گئی ہیں باقی 4بھی وزیر اعظم کی طرف سے افتتاح کے بعد جلد ٹریک پر ہوں گی،انہوں نے کہا کہ فریٹ ٹرینوں کی تعداد 8سے 10ہو چکی ہے، دسمبر اور جنوری میں 2ٹرینیں مزید چلیں گی جبکہ 15 فریٹ ٹرینوں کا ٹارگٹ بھی پورا کیا جائیگا، ایک سوال پر وفاقی وزیر نے کہا کہ خواجہ سعد رفیق کا کیس عدالت میں ہے اس پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتا اور میں پیچھے کی طرف بھی مڑ کر بھی نہیں دیکھنا چاہتا،انہوں نے کہا کہ ٹرینوں کی ڈی ریل منٹ کے حوالے سے 3 رکنی کمیٹی بنائی گئی ہے جو رپورٹ دے گی اور اس کی روشنی میں ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی،وفاقی وزیر نے کہا کہ جو ریلوے افسران گرائونڈ میں نہیں جاتے جس کی ٹریک‘سگنل یا گرائونڈ میں ڈیوٹی لگتی ہے وہ ہر صورت ڈیوٹی کرے گا بصورت دیگر وہ ریلوے میں نہیں رہے گا۔

ایم ایل ون کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر ایم ایل ون چین کو دیا جاتا ہے تو اس کی 70 سے 80 فیصد لیبر پاکستان سے ہوگی‘ہماری حتی الامکان کوشش ہے کہ جائز قیمت اور معیاری کام کے لئے ایم ایل ون کا کام چین کو دیا جائے۔