افغانستان میں سیاسی مذاکراتی عمل کے ذریعے امن کے قیام کے حوالے سے پاکستان کے موقف کی توثیق ہوئی ہے، عمران خان

آج ’’ڈومور ‘‘ کے مطالبے کی بجائے افغانستان کا پرامن حل تلاش کرنے میں ہمارا تعاون مانگا جارہا ہے،اب کسی اورکی جنگ لڑنے کے بجائے پاکستان ثالثی کے ذریعے تصفیہ میں اپنا کردار ادا کرے گا، یمن میں امن کے حوالے سے بھی اپنا کردار ادا کرنے کی پوری کوشش کریں گے، وزیراعظم تمام مذاہب کے لوگوں کو ان کی عبادت گاہوں تک رسائی فراہم کرنا پاکستان کی ذمہ داری ہے، سکھ برادری نے کرتارپور راہداری کو بہت سراہا ہے امید ہے کہ بھارت بھی مثبت جواب دے گا، اگر اقتصادی صورتحال واقعی بری ہوتی تو ملک میں کوئی غیر ملکی سرمایہ کاری نہ آرہی ہوتی، مشکل حالات کے باوجود ہماری معاشی ٹیم نے کارکردگی کا مظاہرہ کیا، وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب

جمعرات دسمبر 22:48

افغانستان میں سیاسی مذاکراتی عمل کے ذریعے امن کے قیام کے حوالے سے پاکستان ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 دسمبر2018ء) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان میں سیاسی مذاکراتی عمل کے ذریعے امن کے قیام کے حوالے سے پاکستان کے موقف کی توثیق ہوئی ہے، افغانستان میں قیام امن کے لئے ہم نے ہمیشہ مذاکرات اور پرامن تصفیہ پر زور دیا ، آج ’’ڈومور ‘‘ کے مطالبے کی بجائے افغانستان کا پرامن حل تلاش کرنے میں ہمارا تعاون مانگا جارہا ہے،اب کسی اورکی جنگ لڑنے کے بجائے پاکستان ثالثی کے ذریعے تصفیہ میں اپنا کردار ادا کرے گا، یمن میں امن کے حوالے سے بھی اپنا کردار ادا کرنے کی پوری کوشش کریں گے، تمام مذاہب کے لوگوں کو ان کی عبادت گاہوں تک رسائی فراہم کرنا پاکستان کی ذمہ داری ہے، سکھ برادری نے کرتارپور راہداری کو بہت سراہا ہے امید ہے کہ بھارت بھی مثبت جواب دے گا، اگر اقتصادی صورتحال واقعی بری ہوتی تو ملک میں کوئی غیر ملکی سرمایہ کاری نہ آرہی ہوتی، مشکل حالات کے باوجود ہماری معاشی ٹیم نے کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے یہ بات وزیراعظم آفس میں وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ وزیراعظم نے کہا کہ امریکا نے یہ بات پہلی مرتبہ تسلیم کی ہے، جو پاکستان تحریک انصاف ہمیشہ کہتی رہی ہے، کہ افغانستان کے مسئلہ کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔وزیراعظم نے یاد دلایا کہ افغانستان میں امن عمل کے حوالے سے افغان مصحالت کے لئے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد سے ان کی ملاقات ہوئی اور انہیں خوشی ہوئی کہ تحریک انصاف کے موقف کو تسلیم کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا نے سیاسی تصفیہ کے ذریعے افغانستان میں امن اور مصحالت کے حصول میں پاکستان کے دیرپا مفاد کا اعتراف کیا ہے۔ ہم 15سال سے کہہ رہے تھے کہ افغان مسئلے کا فوجی حل نہیں ہے، مجھے خوشی ہے کہ امریکا نے اس بات کو تسلیم کیا ہے۔ پاکستان افغانستان میں امن کے لئے اپنا کردار ادا کررہا ہے۔ میں ہمیشہ سمجھتا تھا کہ ہمارا کردار افغانستان میں مذاکرات کے ذریعے قیام امن کے حوالے سے ہے اور ہمارا یہ موقف رہا ہے کہ افغانستان میں مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا سیاسی حل تلاش کیا جائے۔

اللہ کا شکر ہے کہ آج ’’ڈومور ‘‘ کے مطالبے کی بجائے افغانستان کا پرامن حل تلاش کرنے میں ہمارا تعاون مانگا جارہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ افغانستان کے مذاکراتی اور پرامن تصفیہ پر زور دیا اور اب کسی اورکی جنگ لڑنے کے بجائے پاکستان ثالثی کے ذریعے تصفیہ میں اپنا کردار ادا کرے گا۔ یمن کی صورتحال کے بارے وزیراعظم نے کہا کہ ان کی حکومت یمن کے بحران کا ثالثی کے ذریعے حل تلاش کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے کی خواہاں ہے۔

یمن میں امن کے حوالے سے بھی اپنا کردار ادا کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔ کرتار پور راہداری کھولنے سے متعلق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بدقسمتی سے بھارت نے خیر سگالی کے ہمارے اس جذبے کو سیاسی فائدہ حاصل کرنے کا رنگ دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ تمام مذاہب کے لوگوں کو ان کی عبادت گاہوں تک رسائی فراہم کرنا پاکستان کی ذمہ داری ہے خواہ وہ سکھ ہوں، بدھ مت سے یا دیگر مذاہب سے تعلق رکھتے ہوں۔

اقلیتوں کے مقدس مقامات کے حوالے سے آسانیاں پیداکرنا تحریک انصاف کے منشور کا حصہ ہے۔ سکھ برادری نے اس اقدام کو بہت سراہا ہے امید ہے کہ بھارت بھی مثبت جواب دے گا۔ معاشی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے اپنی اقتصادی ٹیم کا بھرپور دفاع کیا اور کہا کہ مشکل حالات کے باوجود معاشی ٹیم نے کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اس ضمن میں انہوں نے وزارت خزانہ ، تجارت اور منصوبہ بندی کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ سب نے اپنا کردار ادا کیا اور ہم مشکل حالات سے نکلے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے مخالفین خراب حالات بتاتے ہیں لیکن دوسری جانب بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری آرہی ہے، اگر اقتصادی صورتحال واقعی بری ہوتی تو ملک میں کوئی غیر ملکی سرمایہ کاری نہ آرہی ہوتی۔ انہوں نے اس ضمن میں سوزوکی کی طرف سے 450 ملین ڈالر، کوکا کولا کی طرف سے 200 ملین ڈالر ، پیپسی کی طرف سے 400 ملین ڈالر ، ایگزن موبائل کمپنی کی طرف سے فوری طور پر 200 ملین ڈالر اور جے ڈبلیو فور لینڈ کی طرف سے 900 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کے عندیہ کا ذکر کیا۔

انہوں نے کہا کہ فورلینڈ کمپنی پاکستان میں کاروں کی مکمل مینوفیکچرنگ کا پلانٹ لگائے گی جو پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا منصوبہ ہے، یہ کارکنوں کی تربیت کے لئے تکنیکی ادارہ بھی قائم کرے گی جو ملک میں صنعت کاری کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری لانے کی ان کاوشوں کا سہرا اقتصادی ٹیم کے سر جاتا ہے۔۔