پی پی 168 میں لیگی امیدوار اور تحریک انصاف کے امیدوار میں تگڑا مقابلہ

دونوں امیدواروں کے مابین سخت مقابلہ،جیت کا مارجن انتہائی معمولی رہ سکتا ہے

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس جمعرات دسمبر 18:52

پی پی 168 میں لیگی امیدوار اور تحریک انصاف کے امیدوار میں تگڑا مقابلہ
لاہور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار-13 دسمبر 2018ء) :پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 168 میں کانٹے دار مقابلہ جاری ہے۔تحریک انصاف اور لیگی امیدوار میں سے جو بھی فتحیاب ہو گا وہ انتہائی معمولی مارجن سے جیتے گا۔تفصیلات کے مطابق جولائی 2018 کے عام انتخابات میں خواجہ سعد رفیق نے 2 نشستوں پر انتخابات میں حصہ لیا۔خواجہ سعد رفیق نے قومی اسمبلی کی نشست این اے 131 اور صوبائی اسمبلی کی نشست پی پی 168 سے حصہ لیا۔

این اے 131 میں انہیں کانٹے دار مقابلے کے بعد وزیر اعظم عمران خان کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔تاہم وہ پی پی 168 کی نشست حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔تاہم اس کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے این اے 131 کی نشست چھوڑنے کا فیصلہ کیا تو خواجہ سعد رفیق نے بھی ایک بار پھر این اے 131 سے قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا 14 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات میں خواجہ سعد رفیق نے فتح حاصل کرلی اور ایک بار پھر وہ قومی اسمبلی کا حصہ بن گئے جس کے بعد انہوں نے ایک بار پھر صوبائی اسمبلی کی سیٹ چھوڑنے کا اعلان کر دیا جس پر آج ضمنی الیکشن کروایا گیا ہے۔

(جاری ہے)

پی پی 168 پر ضمنی انتخاب کیلئے پولنگ شام 5 بجے تک جاری رہی۔ پنجاب اسمبلی کی خالی نشست پی پی 168 لاہور کے لئے کٴْل 11 امیدوار میدان میں ہیں تاہم اصل مقابلہ پی ٹی آئی کے ملک اسد علی کھوکھر اور مسلم لیگ (ن) کے امیدوار رانا خالد محمود قادری کے درمیان ہے۔ جبکہ پیپلز پارٹی نے اس نشست پر مسلم لیگ (ن) کی حمایت کا اعلان کر رکھا ہے۔ الیکشن کمیشن پنجاب کے مطابق حلقے میں کل ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ 26 ہزار 912 ہے، ووٹرز کی آسانی کیلئے 83 پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے ہیں۔

اس وقت کی پیش رفت کے مطابق اب تک غیر سرکاری غیر حتمی نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے اسد کھوکھر 4700 سے زائد ووٹ حاصل کرکے برتری حاصل کیے ہوئے ہیں۔ جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوار رانا خالد قادری اب تک 4400 ووٹ سے کچھ زائد ووٹ حاصل کر پائیں ہیں۔اس ساری صورتحال کو دیکھ کر تجزیہ کیا جاسکتا ہے کہ پی پی 168 میں انتہائی قریبی معاملہ رہے گا۔کسی بھی امیدوار کی فتح یا شکست کی ہیشنگوئی نہیں کی جا سکتی۔حلقے کے بہت سے پولنگ اسٹیشنز پر مسلم لیگ ن کے امیدوار کو برتری حاصل ہے جبکہ متعدد پولنگ اسٹیشنز پر تحریک انصاف کی گرفت مضبوط ہے۔الیکشن کمیشن کی جانب سے حتمی سرکاری نتائج کے اعلان رات 9 یا 10 بجے تک کر دیا جائے گا۔