شہر میں چارے کی کمی نہیں ہے بلیک مارکیٹنگ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی،عبدالباری پتافی

00 ٹن گوبر سے بایوگیس بنانے کے منصوبے کے لیے صنعتکاروں کو دعوت دی جائے گی،صوبائی وزیر لائیو اسٹاک اینڈ فشریز

جمعرات دسمبر 21:15

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 13 دسمبر2018ء) صوبائی وزیر سندھ برائے لائیو اسٹاک اینڈ فشریز، کوآپریٹو عبدالباری پتافی نے بھینس کالونی کراچی میں جانوروں کے چارے مصنوعی رسد روکے جانے اور بلیک مارکیٹنگ کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی لائیو اسٹاک اور ایس ایس پی جامشورو کو ہدایات جاری کیں ہیں کہ چارے کی طلب اور رسد میں حائل روکاوٹوں کو فوری طور ختم کیا جائے تا کہ دودھ اور دیگر ڈیری پراڈکٹس کی بڑھتی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ کراچی کے 10 لاکھ مویشیوں کی غذائی ضروریات کو پورو کیا جا سکے۔

یہ بات انہوں نے آج ڈیری فارمرس ایسوسی ایشن کے ایک وفد کے ساتھ ملاقات کے دوران کی، اس موقع پر ضلع ملیر سے منتخب ایم پی اے عبدالرزاق راجا بھی موجود تھے جبکہ کراچی ڈیری فارمر ایسوسی ایشن کے وفد کی نمائندگی سردار سکندر ناگوری، حاجی حکیم الدین، حاجی محمد رفیق کر رہے تھے ۔

(جاری ہے)

صوبائی وزیر لائیو اسٹاک اینڈ فشریز عبدالباری پتافی نے مزید کہا کہ محکمہ لائیو اسٹاک کراچی بھینس کالونی کے مسائل کے فوری حل لیے سنجیدہ ہے، جبکہ کیٹل کالونی سے روزانہ کی بنیاد پر 1500 ٹن گوبر سے بایوگیس بنانے کے منصوبے کے لیے صنعتکاروں کو دعوت دی جائے گی، اس طر ح صفائی ستھرائی کا پرانا مسئلہ حل کیا جا سکے گا اور سمندر کو بھی آلودہ ہونے سے بچایا جا سکے گا۔

اس موقع پر ڈیری فارمر ایسوسی ایشن کی جانب سے سندھ کے مختلف علا قو ںسے آنے والے چارے کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں کے حوالے سے آگاہ کیا گیا جس پر صوبائی وزیر عبدالباری پتافی نے ڈی جی لائیو اسٹاک اور ایس ایس پی جامشورو سے رابطہ کر کہ ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی کوتاہی کو برداشت نہیں کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ مصنوعی رسد کو روکنے سے طلب بڑھتی ہے جس سے منافع خور فائدہ اٹھاتے ہیں جس کا براہ راست تعلق دودھ اور ڈیری پراڈکٹس کی قیمتوں میں اضافے سے ہوتا ہے جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔