حکومت نے زرعی ٹیوب ویلوں کے لئے بجلی کی قیمت میں پانچ روپے 35 پیسے فی یونٹ کو ٹیرف کا حصہ بنا دیا ہے

اور ای سی سی سے فکس ٹیرف کے معاملے کی منظوری حاصل کر لی گئی ہے، فکس چارچرز کی مد میں کسانوں کو تین ماہ کے لئے تین ارب 60 کروڑ روپے کا ریلیف ملے گا وفاقی وزیر پاور ڈویژن عمر ایوب خان کا کسان اتحاد کے صدر خالد کھوکھر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب

جمعرات دسمبر 22:52

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 13 دسمبر2018ء) حکومت نے زرعی ٹیوب ویلوں کے لئے بجلی کی قیمت میں پانچ روپے 35 پیسے فی یونٹ کو ٹیرف کا حصہ بنا دیا ہے اور ای سی سی سے فکس ٹیرف کے معاملے کی منظوری حاصل کر لی گئی ہے، فکس چارچرز کی مد میں کسانوں کو تین ماہ کے لئے تین ارب 60 کروڑ روپے کا ریلیف ملے گا۔ اس بات کا اعلان وفاقی وزیر پاور ڈویژن عمر ایوب خان نے جمعرات کو کسان اتحاد کے صدر خالد کھوکھر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کاشتکاروں کو بڑا ریلیف دے رہی ہے اور زرعی شعبے کے لئے ٹیرف کا حصہ بنانے سے کاشتکاروں کو فائدہ ہو گا، اس کا کریڈٹ وزیراعظم عمران خان اور وزیر خزانہ اسد عمر کو جاتا ہے جن کی ہدایات پر ہم عمل کر رہے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا یہ مقصد ہے کہ ہم نے محنت کشوں اور متوسط طبقے کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کے نظام میں خامیوں کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑتا ہے، اس وقت ہمارا سسٹم 19500 میگاواٹ سے زائد کی ترسیل نہیں کر سکتا ، ترسیلی نظام میں 72 مقامات پر رکاوٹیں ہیں، پیسکو، حیسکو اور سیپکو الیکٹرک سپلائی کمپنیوں میں جہاں فیڈر سے لائنوں کی لمبائی 15 سے 20 کلومیٹر ہونی چاہیے وہاں 100، 100 کلومیٹر تک ہے، اس سے لاسز ہو رہے ہیں جو بجلی کے بلوں میں صارفین کو منتقل ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے دی جانے والی سبسڈی ٹیرف میں شامل ہے اور 300 یونٹ تک ماہانہ بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے لئے کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، 95 فیصد دکانداروں اور کمرشل صارفین کے بلوں میں بھی اضافہ نہیں کیا گیا، 300 یونٹ تک استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد 75 فیصد ہے جو تقریباً 10 کروڑ بنتے ہیں، اس کے علاوہ صنعتی شعبے کو بھی تین ارب روپے کی سبسڈی دی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ہم طویل مدتی اور مختصر مدتی سٹڈیز پر کام کر رہے ہیں جن سے بجلی کی پیداوار اور طلب و رسد کے اعداد و شمار اور این ٹی ڈی سی کے 35 سال کے لئے بجلی کی ضروریات کے حوالے سے پلان بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کیپسٹی چارجز کا مسئلہ مستقل طور پر حل کرنا چاہتے ہیں، مارچ تک قابل تجدید پالیسی کا اعلان ہو جائے گا، سولر انرجی کا ٹیرف 4.50 روپے ہے، مستقبل میں اس سے بھی مزید کم ہو جائے گا، ہم چاہتے ہیں کہ قابل تجدید توانائی کا حصہ مجموعی انرجی مکس میں 20 فیصد تک ہو جائے کیونکہ مستقبل بھی قابل تجدید توانائی کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ غذائی ضروریات پوری کرنے کے لئے پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے، بہتر غذا کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے، خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کے لئے دودھ، گوشت اور انڈا موثر غذا ہے۔ اس موقع پر کسان اتحاد کے صدر خالد کھوکھر نے کہا کہ ہم کاشتکاروں کو ریلیف فراہم کرنے پر وزیراعظم، وزیر خزانہ اور وزیر پاور ڈویژن کے ممنون ہیں، بجلی کا ریٹ بہتر کرنا حکومت کا احسن اقدام ہے، زراعت کی ترقی کے بغیر معیشت بہتر نہیں ہو سکتی، ہم کھاد، خوردنی تیل اور دیگر سامان باہر سے درآمد کرتے ہیں، حکومت زرعی شعبے میں پیداواری لاگت میں کمی لائے، اگر عوام کو خالص دودھ اور سبزیاں مل جائیں تو ہسپتال مریضوں سے خالی ہو جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری کپاس کی پیداوار بھی کم ہے، اگر تحقیق اور مارکیٹنگ کو بہتر کیا جائے تو ہم اپنے زرعی اہداف با آسانی حاصل کر سکتے ہیں۔