وزیراعلی سندھ کی زیر صدارت 27 ویں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ(پی پی پی)پالیسی بورڈ کا اجلاس

پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ موڈ کے تحت تعلیم،زراعت اور انفراسٹرکچر کے مختلف منصوبوں کو شروع کرنے کی منظوری

جمعرات دسمبر 23:10

وزیراعلی سندھ کی زیر صدارت 27 ویں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ(پی پی پی)پالیسی ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 13 دسمبر2018ء) وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں27ویں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ(پی پی پی)پالیسی بورڈ کا اجلاس جمعرات کو وزیراعلی ہائوس میں منعقد ہواجس میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ(پی پی پی)موڈ کے تحت تعلیم،زراعت اور انفراسٹرکچر کے مختلف منصوبوں کو شروع کرنے کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں صوبائی وزرا عذرا پیچوہو، اسماعیل راہو، سعید غنی، سید سردار شاہ، سید اویس شاہ، چیف سیکرٹری سندھ ممتاز شاہ، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقی محمد وسیم،وزیر اعلی سندھ کے پرنسپل سیکرٹری ساجد جمال ابڑو، انچارج پی پی پی یونٹ خالد شیخ، مختلف محکموں کے سیکیریٹریز نے شرکت کی ۔

محکمہ اسکول ایجوکیشن نے نجی شعبے سے ایک اچھی ایجوکیشن مینجمنٹ آرگنائزیشن (ای ایم او)کے ساتھ مینجمنٹ کنٹریکٹ کرنے کے حوالے سے ایک کیس پیش کیا جس کا مقصد ٹیچر ٹریننگ انسٹیٹیوٹ، حسین آباد کراچی کی کارکردگی کو جدیدتعلیمی نظام اور اصلاحات کے ذریعے بہتر بنانا اور انتظامی خلا کو پر کرنا ،ادارے کی عمارت اور سہولیات کو بہتر اور اپ گریڈ کرنا شامل ہے۔

(جاری ہے)

وزیراعلی سندھ نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ ٹیچرز ٹریننگ انسٹیٹیوٹ ، حسین آباد کو پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے تحت چلانا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ ٹیچرز ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کا انتظام پرائیوٹ سیکٹر کو دی جائے تاکہ پروفیشنل انداز میں چل سکے۔انہوں نے کہا کہ ہم تعلیم کو بہتر اس وقت کرسکتے ہیں جب اساتذہ پروفیشنل طورپر تربیت یافتہ ہوں گے۔

وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے کہا کہ ہمارے پاس 29 ٹیچرز ٹریننگ انسٹیٹیوٹ ہیں اور ان سب کو پرائیوٹ سیکٹر کے ذریعے بہترین انداز میں چلوانا چاہتے ہیں۔ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کی عمارت کو بہتر کرنے کے احکامات دے دیئے ، اس ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کے لئے پرائیوٹ پارٹی اچھے پروفیشنل ٹرینرز تعینات کرے گی۔ٹرینرز / ٹیچرز کی تنخواہ سندھ حکومت ادا کرے گی۔

پی پی پی بورڈ نے ٹریننگ انسٹیٹوٹ کو میرٹ کی بنیاد پر نجی شراکت دار کے حوالے کرنے اور کنٹریکٹ کے طریقے کا ر کو مکمل کرنے کا فیصلہ کیا۔سیکریٹری تعلیم قاضی شاہد پرویزنے ایک اور پروجیکٹ سندھ بیسک ایجوکیشن پروگرام پیش کیا جس کے تحت سندھ حکومت اور یو ایس ایڈ 25 اسکول صوبے میں سیلاب سے متاثر علاقوں میں تعمیر کیے ہیں۔ پی پی پی بورڈ ان اسکولوں کو پی پی پی موڈ پر چلانا چاہتی ہے۔

ان اسکولوں کو چلانے کے لئے 13 مختلف پرائیوٹ پارٹیوں سے بڈس حاصل کیے ہیں۔ یہ اسکول چار /پانچ اضلاع میں پرائیوٹائز کیے جائیں گے۔ اس پیکیج میں سکھر، لاڑکانہ، قمبر شہدادکوٹ اور دادو اضلاع شامل ہیں۔ ان اسکولوں کو 10 سال کے لئے پرائیوٹ سیکٹر کو دیا جائے گا۔ پی پی پی پالیسی بورڈ نے ان اسکولوں کو میرٹ پر پرائیوٹ پارٹی کو دینے کا فیصلہ کیا۔

سندھ پی پی پی بورڈ میں اسلام کوٹ کے 29 اسکولوں کو تھر فائونڈیشن کو دینے کے لئے تجاویز دی گئیں۔ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ تھر فائونڈیشن میں سندھ حکومت کے زیادہ شیئرز ہیں، یہ پی پی پی کے زمرے میں ہے یا نہیں اس کو وزارت قانون سے مشورہ لے کر تھر فائونڈیشن کو دیں گے۔ حکومت سندھ نے جرمن بینک کے تعاون سے چار ریجنل بلڈ سینٹرز (آر بی سی) بنائی ہیں۔

یہ آر بی سی سکھر، جامشورو، شہید بینظیرآباد اور کراچی میں بنائیں گئے ہیں۔ یہ آر بی سی پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے تحت چلانے کا پی پی پی پالیسی بورڈ میں پیش کیے گئے۔ ان چار سینٹرز میں دو سینٹرز سکھر اور جامشورو پی پی پی موڈ پر انڈس اسپتال چلا رہا ہے۔ باقی دو آر بی سی کراچی اور شہید بینظیرآباد پی پی پی موڈ پر دینے کا فیصلہ کیاگیا۔

آر بی سی کراچی ضیاالدین اسپتال اور شہید بینظیرآباد آر بی سی فاطمیڈ کو دینے کے فیصلے کی منظوری دی گئی ۔انسٹیٹیوٹ آف چائیڈہیلتھ (این آئی سی ایچ) کی سکیورٹی اور سیفٹی پی پی پی موڈ پر کرنے کا فیصلہ کیاگیا۔ سکیورٹی کے آلات کی فراہمی کے لئے 474.42 ملین روپے کی بڈس موصول ہوئی ہیں۔ہر شفٹ میں 12 گارڈز ہوں گے اور تین شفٹوں میں 36 گارڈز کی ضرورت ہے۔

پی پی پی پالیسی بورڈ نے دوبارہ ٹینڈر کرنے کی منظوری دے دی۔ پالیسی بورڈ نے پرائیوٹ پارٹی سے کانٹریکٹ کی ایگریمنٹ کو مزید بہتر کرنے کی بھی ہدایت کر دی گئی ۔ جو پارٹی اس وقت سکیورٹی فراہم کر رہی ہے اس کے کانٹریٹ کو 6 ماہ لے لئے بڑھانے کی منظوری دی گئی۔ ڈی ایچ کیو / سول اسپتال بدین پروجیکٹ انڈس اسپتال چلا رہا ہے۔ پی پی پی بورڈ نے تبادلہ خیال کرنے کے بعد اس اسپتال کے لئے 1008 ملین روپے ون ٹائم دینے کی منظوری دے دی۔

ملیر ایکسپریس وے کے ٹیکنیکل اسپیکٹ میں پی پی پی پالیسی بورڈ اجلاس میں تبادلہ خیال کیاگیا۔ پروجیکٹ کے لئے تقریبا فیصد رقم / فنڈز سندھ حکومت فراہم کرے گی ۔ پی پی پی پالیسی بورڈ میں یہ منصوبہ پیش کیاگیا ۔ وزیراعلی سندھ نے کہا کہ دریائے سندھ نے سندھ کو تقریبا دو حصوں میں تقسیم کیا ہواہے اور آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ دریا کے دونوں کناروں پر رہائش پذیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ گھوٹکی جوکہ دریا کے ایک کنارے پر ایمرجنگ انڈسٹریل ایریا ہے اور کندھ کوٹ دوسری جانب مجوزہ پاک۔چائنا اکنامک کوریڈور پر واقع ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ کندھ کوٹ اور گھوٹکی براہ گڈو بیراج کے درمیان فاصلہ 151 کلومیٹر ہے۔پل جوکہ گھوٹکی اور کندھ کوٹ کو ملائے گا اس سے 151 کلومیٹر کا فاصلہ 30 کلومیٹر تک کم ہوجائیگا۔پی پی پی موڈ پر کنٹریکٹ کا عمل تقریبا مکمل ہوچکاہیلہذا بورڈ نے اس عمل کو حتمی شکل دینے کی منظوری دی۔

محکمہ زراعت نے حیدرآباد میر پور خاص روڈ پر مینگو پروسیسنگ یونٹ قائم کرنے کا آئٹم پیش کیا۔ یونٹ میں میکنیزم کے تحت دھلائی اور گریڈنگ ، ویلیو ایڈڈ سیگمنٹ، بلاسٹ چلرز، پیکنگ اور لیبلنگ، مائیکروبائیولوجی اور کوالٹی کنٹرول لیب وغیر ہ کی سہولت ہوگی۔ اس پر لاگت کا تخمینہ 1.5 بلین روپے ہے۔پالیسی بورڈ نے محکمہ کو ہدایت کی کہ وہ منصوبے کا دوبارہ ٹینڈر کرے اور کامیاب بڈر کا انتخاب کرے۔اجلاس میں ملیر ایکسپریس وے کے چند فنی پہلوئوں پر غور کیاگیا اور ان کی منظوری دی گئی ۔ 7بڈرز پہلے ہی اپنے ٹیکنیکل پروپوزل داخل کرچکے ہیں ۔ اجلاس میں بی آر ٹی بلیو لائن انفراسٹرکچر پروجیکٹ کے لیے نئے بڈز طلب کرنے کی بھی منظوری دی گئی ۔