بی بی سی کا بھارت نواز چہرہ کھل کر سامنے آگیا

وزیر خزانہ کی جانب سے کلبھوشن یادو پر کی گئی بات انٹرویو سے نکال دی گئی

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس جمعرات دسمبر 23:16

بی بی سی کا بھارت نواز چہرہ کھل کر سامنے آگیا
لندن(اردوپوائنٹ تازہ ترین اخبار-13 دسمبر 2018ء) :بی بی سی کی بھارت نواز پالیسی نے سچ پر پردہ ڈال دیا، وزیر خزانہ اسد عمر کے انٹرویو کو شائع کرتے وقت کلبھوشن پر کی گئی گفتگو کو نکال دیا۔تفصیلات کے مطابق وزیر خزانہ اسد عمر کی جانب سے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو انٹرویو دیا گیا۔بی بی سی اردو کے مطابق پروگرام ہارڈ ٹاک میں بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم نے آئی ایم ایف کی پابندیوں اور شرائط کا انتظار نہیں کیا بلکہ معیشت کی بہتری کے لیے حکومت کے پہلے سو دن کے اندر خود ہی متعدد اقدامات کیے۔

انھوں نے بتایا کہ ہم نے حکومت کے پہلے سو دن کے اندر گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کیا، نئے ٹیکس لگائے، شرحِ سود میں اضافہ کیا اور ملکی کرنسی کی قدر میں کمی کی۔

(جاری ہے)

انھوں نے کہا کہ اقتصادی اور مانیٹرنگ پالیسی اصلاحات کی صحیح سمت میں جا رہے ہیں جس کی ضرورت ہے اور ہمیں ضرورت نہیں کہ آئی ایم ایف اس کے بارے میں ہمیں ہدایات دے بلکہ ہم وہ کر رہے ہیں جو ہمارے خیال میں ہمیں کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے بلوچستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں سی پیک کی سرگرمیوں پر کوئی تحفظات نہیں اور نہ نہ ہی بلوچ عوام میں کوئی غم و غصہ ہے۔انکا کہنا تھا کہ یہ اسپانسرڈ دہشت گرد ہیں جو باہر سے تربیت اور مالی معاونت حاصل کرتے ہیں۔اس موقع پر وزیر خزانہ نے کلبھوشن یادو کا معاملہ بھی اٹھایا تاہم بی بی سی کی بھارت نواز پالیسی کے تحت جب اس انٹرویو کو نشر کیا گیا تو اس میں سے کلبھوشن والے حصے کو نکال دیا گیا۔
اس پر بات کرتے ہوئے بی بی سی وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انٹرویو کا یہ حصہ تکنیکی بنیادوں پر کاٹا گیا۔