سانحہ ساہیوال کی تحقیقات میں وزیراعلیٰ پنجاب اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں؟

معروف صحافی خوشنود علی خان نے حقائق بتا دئے

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین ہفتہ فروری 12:17

سانحہ ساہیوال کی تحقیقات میں وزیراعلیٰ پنجاب اثر انداز ہونے کی کوشش ..
لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 02 فروری 2019ء) : نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے سینئیر صحافی خوشنود علی خان نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ سانحہ ساہیوال پر ہم جوڈیشل کمیشن نہیں بنائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم نے پانچ آدمیوں کو سزا دے دی ہے۔ خوشنود علی خان نے کہا کہ سانحہ ساہیوال ایک عوامی ایشو تھا، یہ ایشو لوگوں کی زبان پر تھا، یہ لوگوں کا ایشو تھا ۔

اگر حکومت نے مٹی ہی ڈالنی تھی تو جوڈیشل کمیشن یا کوئی بھی کمیشن بنا دینا سب سے اچھا راستہ تھا لیکن وزیراعلیٰ پنجاب اس بات پر اڑ گئے کہ جوڈیشل کمیشن نہیں بنائیں گے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی اور کہا کہ ہم کمیشن نہیں بنائیں، اور اب یہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ سانحہ ساہیوال کے مقتولین کو ان ہی کے ساتھیوں نے مارا ہم نے نہیں مارا۔

(جاری ہے)

یہ لوگ ایسی کہانی گھڑ رہے ہیں جس پر لوگ یقین نہیں کر رہے۔ انہوں نے کہا کہ عثمان بزدار کا اپنا ہی طرز عمل ہے۔یاد رہے کہ گذشتہ ماہ سی ٹی ڈی نے ساہیوال میں کی جانے والی کارروائی میں چار افراد پر فائرنگ کر کے ان کو قتل کر دیا تھا ۔ مقتولین میں سے تین افراد کو بے گناہ جبکہ ذیشان نامی شخص کو مشکوک قرار دیا گیا۔سانحہ ساہیوال پر تشکیل دی جانے والی جے آئی ٹی نے سانحہ کی مکمل تحقیقاتی رپورٹ جمع کروانے کے لیے حکومت سے مہلت طلب کر رکھی ہے جبکہ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں رپورٹ میں سی ٹی ڈی اہلکاروں اور عینی شاہدین کے بیانات ، پوسٹمارٹم رپورٹ کے مندرجات، سمیت 6 ویڈیوکلپس، سی سی ٹی وی فوٹیج سمیت 3 ٹیلیفوں کالزکی ریکارڈنگ شامل کی گئی۔

جے آئی ٹی رپورٹ کی روشنی میں ایڈیشنل آئی جی(سی ٹی ڈی)، ایڈیشنل آئی جی آپریشنز پنجاب اورڈی آئی جی(سی ٹی ڈی)کو فوری طور پر عہدے سے ہٹا دیا گیا جبکہ ایس ایس پی(سی ٹی ڈی) اورڈی ایس پی (سی ٹی ڈی) ساہیوال کو معطل کر دیا گیا ۔ یہی نہیں بلکہ مقابلے میں ملوث پانچ سی ٹی ڈی اہلکاروں کو مقدمے میں چالان کر کے انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیش کرنے کا حکم بھی دیا گیا تھا۔ سانحہ ساہیوال کے متاثرہ خاندان نے جے آئی ٹی پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کیا تھا جسے مسترد کر دیا گیا۔