پچھلی حکومت گیس کی قیمتوں میں اضافے کی ذمہ دار قرار

گیس کی قیمتوں میں اضافہ مہنگی گیس کی وجہ سے کیا، پچھلی حکومت نے مہنگی گیس خریدی تھی، آئندہ سردیوں میں گیس کی لوڈشیڈنگ نہیں کی جائے گی، دیہاتوں میں نئے گیس کنکشن نہیں دیے جائیں گے۔وفاقی وزیرپٹرولیم چوہدری غلام سرورکی پریس کانفرنس

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ ہفتہ فروری 16:07

پچھلی حکومت گیس کی قیمتوں میں اضافے کی ذمہ دار قرار
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 فروری2019ء) وفاقی وزیرپٹرولیم چوہدری غلام سرور نے گیس کی قیمتوں میں اضافے کی ذمہ داری پچھلی حکومت پر ڈال دی، انہوں نے کہا کہ گیس کی قیمتوں میں مہنگی گیس کی وجہ سے اضافہ کیا،ماضی کی حکومت نے مہنگی گیس خریدی تھی، آئندہ سردیوں میں گیس کی لوڈشیڈنگ نہیں کی جائے گی،دیہاتوں میں نئے گیس کنکشن نہیں دیے جائیں گے۔

انہوں نے آج یہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مالی اور انتظامی بے ضابطگیوں کے باعث گیس کمپنیاں خسارے میں رہیں۔ گیس کی مد میں 154ارب روپے کا نقصان ہورہا تھا۔ حکومت حالات پر جلد قابو پالے گی۔ ملک میں سالانہ 50 ارب روپے کی گیس چوری ہورہی ہے۔گیس چوری پر قابو پانے کیلئے اقدامات کررہے ہیں۔ چوہدری غلام سرورنے کہا کہ ماضی میں گیس مہنگے داموں خریدی جارہی تھی، گیس کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ بھی یہی ہے کہ ماضی میں مہنگی گیس خریدی گئی۔

(جاری ہے)

نوازحکومت نے صرف الیکشن جیتنے کیلئے گیس کی قیمت نہیں بڑھائی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کب تک مہنگی گیس پر عوام کو ریلیف دیتی رہے گی؟ ماضی کی حکومتوں کی غلطیوں کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ آئندہ سردیوں سے قبل نئی گیس کا انتظام کرلیا جائے گا، دیہاتوں میں اب نئے گیس کنکشن بھی نہیں دیے جائیں گے۔ واضح رہے وفاقی حکومت نے ایل پی جی کی قیمتوں میں6 روپے فی کلوگرام اضافہ کردیا۔

حکومت نے ایل پی جی کی نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ایل پی جی کی قیمتوں میں 6 روپے اضافے کے بعد گھریلوسلنڈر66 روپے اور کمرشل سلنڈر250 روپے مہنگا کردیا گیا ہے۔ جس کے تحت ایل پی جی کی نئی قیمت 121 روپے ہوگئی ہے۔ جبکہ ایل پی جی کے گھریلو سلنڈر کی قیمت 1427روپے ہوگئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ حکومتی نوٹیفکیشن کے ساتھ ہی مارکیٹ میں گھریلو سلنڈر 1361روپے کی بجائے اب 1427روپے کا فروخت کیا جارہا ہے۔

دوسری جانب بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے سستی ایل پی جی کیلئے 4 غیرملکی کمپنیوں نے معاہدہ کرلیا ہے۔ ایل پی جی کے دوکارگو جہاز مارچ میں آئیں گے، اسی طرح ایل پی جی کے 3 کارگو جہاز اپریل میں پاکستان میں آئیں گے۔ جس کے بعد ایل پی جی کی قیمتوں میں کمی کا مکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔