چوہدری نثار اور عمران خان، کیا پرانے دوست پھر اکٹھے ہونے جا رہے ہیں؟

نواز شریف دور میں چوہدری نثار نے پی ٹی آئی کو جو رعایتیں دی تھیں کیا ان کا صلہ ملنے کا وقت آن پہنچا ہے

Sajjad Qadir سجاد قادر منگل اپریل 06:44

چوہدری نثار اور عمران خان، کیا پرانے دوست پھر اکٹھے ہونے جا رہے ہیں؟
لاہور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2019ء) وزیر اعظم صاحب ایران دورے پر تھے جبکہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف لندن میں گھوم رہے ہیں اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین پارلیمنٹ میں حکومت کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں جبکہ پنجاب میں وزیراعلیٰ بدلنے کی دبی دبی خواہش کا اظہار کیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں پی ٹی آئی اور ن لیگ کے فارورڈ بلاک بنتے بھی نظر آ رہے ہیں۔

آمدہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے حوالے سے چوہدری نثار اور پرویز الہٰی کا نام سننے کو مل رہا ہے جبکہ چوہدری نثار نے صوبائی رکن کا حلف لینے سے بھی انکار کر دیا ہے جبکہ چوہدری برادران مونس الہٰی کو وزارت دینے کے لیے جوڑ توڑ کرتے بھی نظر آتے ہیں۔مگر اس ساری کہانی میں کہیں نا کہیں چوہدری نثار کو فٹ کر دیا گیا ہے۔ملکی سیاست میں ان کا کیا کردار ہو گا اس حوالے سے منظر نامہ کچھ واضح تو نہیں مگر اتنامبہم بھی نہیں ہے کیونکہ یہ نوشتہ دیوار پر لکھا جا چکا کہ عثمان بزدار جلد یا بدیر پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے عہدے پر نظر نہیں آئیں گے اور یہ بھی طے ہے کہ چوہدری نثار سیاست میں انٹری بھی دیں گے تو ایسے میں ہو گا کیا یہ بتایا ہے سینئر صحافی ڈاکٹر شاہد مسعود نے اپنے پراگرام میں۔

(جاری ہے)

ان کا کہنا تھا کہ چوہدری نثار اور عمران خان پرانے دوست ہیں۔گزشتہ حکومت میں پی ٹی آئی کو تاریخی دھرنہ دینے میں ساتھ بھی اس وقت کے وزیر داخلہ چوہدری نثار نے دیا تھا۔جب نواز شریف سے چوہدری نثار کی اونچ نیچ ہوئی تھی اس وقت عمران خان نے اسے اپنی پارٹی میں آنے کا کہا تھا مگر وہ درست وقت کے انتظار میں تھے۔شاید اب درست وقت آن پہنچا ہے اور وہ ملکی سیاست میں اپنے حصے کا کردار نبھانے کے لیے تیار ہو چکے ہیں۔آمدہ چند ہفتوں میں یہ کلیئر ہو جائے گا کہ چوہدری نثار حلف لیتے ہیں یا نہیں مگر سیاست میں ان کا کردار سب کے سامنے ہو گااور پنجاب میں بڑی سیاسی تبدیلی کا باعث بھی بنے گا۔