ملک کے ریکارڈ دھڑادھڑ ٹوٹ رہے ہیں

اب عوام کو صحیح پتا چلا ہو گا کہ مہنگائی کیا ہوتی ہے،مریم نواز

Sajjad Qadir سجاد قادر اتوار مئی 07:43

ملک کے ریکارڈ دھڑادھڑ ٹوٹ رہے ہیں
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 مئی2019ء)   پاکستانیو گھبرانا نہیں،بس کچھ وقت دے دیں۔یہ عمران خان کا وہ ڈائیلاگ ہے جو سوشل میڈیااور مین سٹریم میڈیا میں تواتر سے سنائی دییتا ہے۔وزیراعظم عمران خان صاحب اس بات کا اقرار کر چکے ہیں کہ حکومت میں آنے سے پہلے چیزیں جس طرح دکھائی دیتی تھیں اب ویسی نہیں ہیں۔حالات بہت مشکل اور دگرگوں ہیں مگر وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ ناامید نہیں تھوڑا وقت لگے گااور حالات ٹھیک ہو جائیں گے...مگر کب تک؟اس سوال کا جواب کسی بھی حکومتی عہدیدار کے پاس بالکل نہیں ہے کیونکہ 9ماہ گزرجانے کے باوجود بھی حالات کنٹرول میں نہیں آ سکے اور مہنگائی کی بریکیں فیل ہو چکیں۔

ہر چیز کے ریٹ بڑھتے جا رہے ہیں اور ڈالر بھی پکڑائی نہیں دے رہا بیروزگاری نے سب سے زیادہ عوام کی چیخیں نکلوا رکھی ہیں ایسے میں اپوزیشن کوئی بھی موقع حکومت پر تنقید کرنے کا نہیں جانے دیتی۔

(جاری ہے)

پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے قائدین پی ٹی آئی کی حکومت کو آئے دن تنقید کا نشانہ بناتے اور عوام کو تبدیلی کا مزہ لینے کا مشورہ دیتے نظر آتے ہیں۔حالیہ ملکی صورت حال اور مہنگائی کو مدنظر رکھتے ہوئے ن لیگ کی نیب صدر مریم نواز نے ٹویٹر پر بھڑاس نکالتے ہوئے عوام سے کہا کہ اب پتا چلا مہنگائی کیا ہوتی ہے۔

مریم نواز نے ملک کی بگڑتی معاشی صورت حال پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں دھڑا دھڑ ریکارڈ ٹوٹ رہے ہیں۔ پچھلے ہفتے سٹاک مارکیٹ 17 سال میں کم ترین سطح پر رہی۔ اب تک روپے کی قدر میں 100 فیصد کمی ہو گئی۔ اب عوام کو پتہ چلا کہ معاشی بدحالی کیا ہوتی ہے۔اس حوالے سے مسلم لیگ ن کے اہم رہنماﺅں کا اجلاس پیر کو پارلیمنٹ ہاﺅس میں طلب کر لیا گیا ہے۔

طلب کیے گئے اجلاس میں پارٹی کی نائب صدر مریم نواز بھی شرکت کریں گی۔ اجلاس میں پارٹی کے اہم رہنما اور صوبائی صدور کو بھی بلایا گیا ہے۔ اجلاس میں حکومت مخالف تحریک کے حوالے سے مشاورت کی جائے گی۔دوسری طرف تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے سینئر راہنما احسن اقبال کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اور ان کے وزیر صرف ایک کام جانتے ہیں اپوزیشن کو گالیاں دینا۔ یہ حکومت پاکستان کی معیشت کے ساتھ قومی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن چکی ہے۔ ہم چاہتے ہیں جمہوری نظام اپنی مدت پوری کرے۔احسن اقبال کا کہنا تھا کہ جلد طے کریں گے کہ حکومت کو کب دباو¿ کے ذریعے مڈٹرم الیکشن کی طرف لایا جائے۔ اس بات کا فیصلہ اپوزیشن کی قیادت صلاح مشورے کے بعد کرے گی۔