Live Updates

کبھی اپنی کرسی پر نعیم الحق کو بٹھاتے ہیں اور کبھی کشمیر پر ہفتہ وار قومی احتجاجی پروگرام کے اجرا کا وعدہ کر کے بھول جاتے ہیں

معروف صحافی و کالم نگار طلعت حسین نے اپنے حالیہ کالم میں وزیراعظم کو آڑے ہاتھوں لے لیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر ستمبر 12:54

کبھی اپنی کرسی پر نعیم الحق کو بٹھاتے ہیں اور کبھی کشمیر پر ہفتہ وار ..
اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 09 ستمبر 2019ء) : معروف صحافی و کالم نگار طلعت حسین نے اپنے حالیہ کالم میں وزیراعظم عمران خان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔''سُپرمین کی اڑان اور ملکی بحران'' کے عُنوان سے تحریر کئے گئے اس کالم میں طلعت حسین کا کہنا تھا کہ پاکستان بحران کی زد میں ہے جس سے انکار کرنے والے اُن سے بھی زیادہ سادہ ہیں جنہوں نے سپرمینوں کے کہنے پر اڑنے کے لیے چھلانگ لگائی اور اب زمین پر پڑے کراہ رہے ہیں۔

انہوں نے وزیراعظم کا نام لیے بغیر ان پر تنقید کرتے ہوئے اپنے کالم میں لکھا کہ اربوں روپے کے قرضوں کی معافی کے آرڈیننس جاری کرتے ہیں اور پھر یہ خبر چلواتے ہیں کہ اس آرڈیننس کے بارے میں مجھے ٹی وی سے پتہ چلا اور پھر اس آرڈیننس کو جاری کرنے والے یعنی صدر مملکت کا حوالہ دیے بغیر از خود واپس بھی لے لیتے ہیں۔

(جاری ہے)

اس طرح جاری شدہ آرڈیننس کو واپس لینے کی وہ روایت قائم کرتے ہیں جس کی قانون اور آئین میں کوئی گنجائش موجودہ نہیں۔

کبھی اپنی کرسی پر نعیم الحق کو بیٹھا دیتے ہیں اور کبھی کشمیر کے حوالے سے ہفتہ وار قومی احتجاجی پروگرام کے اجرا کا وعدہ کر کے بھول جاتے ہیں۔ مگر سپرمینوں کی طرف سے تبدیلی کے مشروب کی خصوصیات سے متعلق گمراہ کن خبروں نے سب سے زیادہ تباہی ملک کے معاشی نظام میں پھیلائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال پہلے قرضوں سے نجات کے دعوے سن سن کر کان پک گئے تھے۔

ملک کی معیشت کو قرضوں کے چُنگل سے چُھڑوانا اور خود انحصاری پر بنیاد کرنا قومی سلامتی کے اہم ترین اہداف کے طور پر پیش کیے جاتے تھے۔''مر جائیں گے مگر قرضے نہیں لیں گے'' یہ وہ نعرہ تھا جس کی بنیاد پر ملکی معیشت کو کھڑکی سے کودنے پر مجبور کیا گیا۔ لیکن بعد میں آئی ایم ایف کی منتوں سے ایک ایسا پیکج کیا گیا جو عوام کا خون نچوڑنے والی مشین سے کم نہیں تھا۔

آئی ایم ایف کے کہنے پر اپنی معاشی ٹیم کو تبدیل کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ آئی ایم ایف قرضے کی قسط دینے کے دو ماہ کے اندر ہی ایک خصوصی مشن روانہ کر دے تاکہ قرضہ لینے والی حکومت کو حالات کی سنگینی سے آگاہ کیا جائے۔ نہ کوئی نیا پراجیکٹ شروع ہوا، نہ نئی نوکریوں کی کوئی خبر ہے۔ مکانات کی تعمیر کے لیے کروڑوں روپے فارمز کی صورت میں حاصل کرنے کے بعد ایک چھت بھی میسر نہیں ہو سکی۔

بڑی کمپنیاں کاروبار سکیڑ رہی ہیں اور بزنس مین دکان داروں سمیت ہر طرف ٹکریں مار رہا ہے۔مہنگائی حکومت کے اپنے اعدادو شمار کے مطابق اس وقت تاریخی سطح پر ہے۔ صرف کیمروں کے سامنے کھڑے ہو کر معدب میڈیا کے اراکین کو طوطا مینا کی کہانیاں سنانے والے ٹوئٹر ٹارزن متحرک ہیں۔ ان کے علاوہ یہ ملک ایک بدترین سیاسی حبس اور معاشی تنزلی کا شکار ہے۔

پچھلے دنوں جب اسد عمر نے آئی ایم ایف کے اہداف پورے نہ ہونے کے معاملے کو مالیاتی کمیٹی کے ایک اجلاس کے دوران اٹھایا تو وزیر اعظم عمران خان نے ان کو طلب کر کے پوچھا معاملہ کیا ہے؟ نہ جانے وزیر اعظم کو ہر چھوٹے اور بڑے معاملے کے بارے میں بتانا کیوں پڑتا ہے؟ کیا بنی گالہ کی پہاڑی پاکستان کی سرزمین سے اتنی اونچی ہے کہ وہاں سے حقیقت نظر سے اوجھل ہی رہتی ہے؟ وہ کون سی کیفیت ہے جس میں سے وزیر اعظم کو ہر روز کچوکے لگا کر نکالنا پڑتا ہے تاکہ وہ اپنی ناک کے نیچے ہونے والی فاش غلطیوں کو درست کریں اور اس عمل میں ہونے والی مزید غلطیوں کے تدارک کے لیے چند دن بعد دوبارہ بندوبست کریں۔

انہوں نے کہا کہ جن سپر مینوں نے عوام سمیت نظام کی چھلانگ لگوا کر کرسی حاصل کر لی ہے ان کے سامنے زمین پر مچنے والے غدر سے خود کو محفوظ رکھنے کا بڑا چیلینج موجود ہے۔ چھلانگ لگانے والوں کی بے وقوفی پر ہنسنے کا وقت اب ختم ہو گیا ہے۔ یہ ملک ایک بحران کی زد میں ہے جس سے انکار کرنے والے ان سے بھی زیادہ سادہ ہیں جنہوں نے ان کے اصرار پر آسمان پر اڑنے کے لیے چھلانگ لگائی اور اب زمین پر پڑے کراہ رہے ہیں۔
وزیراعظم کا دورہ امریکہ سے متعلق تازہ ترین معلومات