برطانیہ میں 100 پاؤنڈ کے چالان سے انکار کرنے والا 30 ہزار سے محروم !

عدالتی جنگ تین برس تک جاری رہی اور بالآخر رواں سال اگست میں رچرڈ اپنی دائر کی ہوئی اپیل کا کیس ہار گیا

جمعرات ستمبر 15:45

لندن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 12 ستمبر2019ء) برطانیہ میں ایک شخص 100 پاؤنڈ کے ٹریفک چالان کے خلاف قانونی جنگ لڑتے ہوئے اپنے بیٹے کی وراثت کے لیے بچا کر رکھی گئی رقم میں سے تقریبا 30 ہزار پاؤنڈ گنوا بیٹھا۔ یہ بات برطانوی نشریاتی ادارے نے بتائی۔مغربی انگلینڈ میں گلوسیسٹر شائر سے تعلق رکھنے والا 71 سالہ برطانوی رچرڈ کیڈویل 2016 میں سڑک پر سفر کے دوران مقررہ رفتار سے زیادہ تیزی سے گاڑی چلاتے ہوئے سڑک پر نصب ریڈار کی نظروں میں آ گیا تھا۔

علاقے میں رفتار کی مقررہ حد 48 کلو میٹر فی گھنٹہ تھی جب کہ ریڈار نے رچرڈ کی گاڑی کی رفتار 56 کلو میٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی۔ اس کے سبب رچرڈ پر 100 پاؤنڈ جرمانہ عائد کیا گیا۔ تاہم اس نے چالان کی اس رقم کو عدالت میں چیلنج کر دیا۔

(جاری ہے)

یہ عدالتی جنگ تین برس تک جاری رہی اور بالآخر رواں سال اگست میں رچرڈ اپنی دائر کی ہوئی اپیل کا کیس ہار گیا۔ اس دوران عدالتی نظام کی مذمت کرنے والے رچرڈ نے اپنے بیٹے کے لیے مختص کی گئی وراثت کی رقم کا بڑا حصہ وکیلوں اور عدالتی اقدامات کی مد میں اخراجات پر پھونک ڈالا۔

رچرڈ نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ میں اپنے کیے بہت نادم ہوں۔ میں تو صرف یہ چاہتا تھا کہ حق سامنے آ جائے۔رچرڈ نے الکٹرنک انجینئرنگ کے ایک ماہر کی معاونت سے عدالت کے سامنے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ممکنہ طور پر ریڈار غلط کام کر گیا ہو یا متوازی ٹریک پر کسی دوسری گاڑی کے سبب متنبہ ہوا ہو۔برطانوی عدلیہ کی متعلقہ کمیٹی نے بتایا کہ اس مقدمے میں متعدد مسائل درپیش ہوئے اور اس کی مدت طویل ہو گئی۔