جنوبی وزیرستان میں براڈ بینڈ انٹرنیٹ شروع کرنے کے معاہدہ پر دستخط کر دیئے گئے

یو ایس ایف اور نجی موبائل کمپنی کے مابین 90 ملین ڈالر کے معاہدے کے تحت جنوبی وزیرستان میں براڈ بینڈ سروس شروع کی جائے گی دنیا گوبل ویلیج بن چکی ہے، ہم نے اپنے حالات خود بدلنے ہیں، موجودہ دور میں تعمیر اور ترقی کیلئے براڈ بینڈ انتہائی اہم ہے، مقبول صدیقی

جمعرات ستمبر 18:30

جنوبی وزیرستان میں براڈ بینڈ انٹرنیٹ شروع کرنے کے معاہدہ پر دستخط کر ..
پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 12 ستمبر2019ء) پشاور نجی موبائل کمپنی اور یونیورسل سروس فنڈ (یو ایس ایف) کیدرمیان جنوبی وزیرستان میں براڈ بینڈ انٹرنیٹ سروس شروع کرنے کے معاہدہ پر جمعرات کے روز صوبائی دارالحکومت پشاور میں دستخط ہوا۔یو ایس ایف اور نجی موبائل کمپنی کے مابین 90 ملین ڈالر کے معاہدے کے تحت جنوبی وزیرستان میں براڈ بینڈ سروس شروع کی جائے گی۔

معاہدے پر دستخط وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی خالد مقبول صدیقی اور ترجمان صوبائی حکومت اجمل وزیر کی موجودگی میں ہوا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ دنیا گوبل ویلیج بن چکی ہے، ہم نے اپنے حالات خود بدلنے ہیں، موجودہ دور میں تعمیر اور ترقی کیلئے براڈ بینڈ انتہائی اہم ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پورا پاکستان ملکر ملک کی تقدیر بدلے گا، ایک تبدیلی حکومت کا وعدہ ہے اور ایک تبدیلی باہر سے بہت تیزی سے آرہی ہے، اس بدلتی دنیا کیساتھ ہم نے بھی تیزی سے بدلنا ہوگا۔

چیف کواپریٹ اینڈ انٹر پرائز آفیسر سید علی نصیر نے کہا کہ اس منصوبہ سے 0.64 ملین سے زائد ابادی مستفید ہو گی۔تقریب کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ جبر کے دنوں میں پشاور میں وقت گزارنے کا موقع ملا ، یہاں آکر آج خوشی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی گزشتہ گیارہ سال سے معاشی دہشت گردی کا شکار ہے، کراچی کا امن اور ترقی پاکستان کی ترقی سے جڑی ہوئی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ ہم سب کے لیے المیہ ہے کہ جمہوری ادوار میں کبھی بھی بنیادی جمہوریت نہیں رہی۔انہوں نے کہا کہ سندھ کا بلدیاتی نظام آئین سے متصادم ہے، متحدہ قومی مومنٹ گزشتہ دو سالوں سے یہ معاملہ عدالتوں میں لیکر گئے ہیں، کراچی کے مئیر کے پاس کچرا اٹھانے کا اختیار ہی نہیں، ہم قانون کی خلاف ورزی کرکے شہر کا کچرا اٹھانے کی کوشش کررہے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ کراچی کی آبادی تین کروڑ ہے جبکہ مردم شماری میں ڈیڑھ کروڑ بتائی گئی ہے جو مسائل کی اصل وجہ ہے۔