چوہدری شوگر ملز کیس:مریم نواز کے ریمانڈ میں 7دن کی توسیع

مجھے سیاسی بنیاد پر گرفتار کیا گیا کیونکہ میں جلسے کر رہی تھی. نون لیگ کی نائب صدر کا عدالت میں الزام

Mian Nadeem میاں محمد ندیم بدھ ستمبر 13:43

چوہدری شوگر ملز کیس:مریم نواز کے ریمانڈ میں 7دن کی توسیع
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔18 ستمبر۔2019ء) لاہور کی احتساب عدالت نے چوہدری شوگر ملز کیس میں گرفتار مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور ان کے کزن یوسف عباس کے جسمانی ریمانڈ میں 7 روز کی توسیع کردی اور انہیں 25 ستمبر کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا ہے. احتساب عدالت کے منتظم جج چوہدری امیر محمد خان نے مریم نواز اور یوسف عباس کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر سماعت کی، اس دوران دونوں ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا.

اس دوران نیب کی طرف سے خصوصی پراسیکیوٹر حافظ اسد اللہ اعوان اور حارث قریشی پیش ہوئے جبکہ ملزمان مریم نواز اور یوسف عباس کی جانب سے امجد پرویز ایڈووکیٹ پیش ہوئے.

(جاری ہے)

دوران سماعت نیب نے ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 15 روز کی توسیع کی استدعا کی اور کہا کہ اسما نواز، کلثوم نواز، نواز شریف، شہباز شریف، عباس شریف کے اہل خانہ بھی چوہدری شوگر ملز میں شامل تھی.

تفتیشی افسر نے بتایا کہ چوہدری شوگر ملزم 1992 سے ایس ای سی پی کے پاس رجسٹرڈ ہے،70 کروڑ میں شوگر ملز قائم ہوئی جس میں 40 کروڑ بینک کا قرض شامل تھا. انہوں نے بتایا کہ مریم نواز کی آمدنی اور ٹیکس کا ریکارڈ اکٹھا کیا جارہا ہے جبکہ نواز شریف کے اہل خانہ کی 9 آف شور کمپنیوں کا ریکارڈ بھی طلب کیا ہے‘دلائل کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا چوہدری شوگر ملز کے لیے ای ایف ایف انٹرپرائزز سے 3 کروڑ روپے قرض لیا اور پنجاب کارپیٹس سے 1 کروڑ روپے قرض لیا گیا.

اس پر مریم نواز کے وکیل نے کہا کہ نیب جو بھی تفتیش کرتا ہے اسی پر شام کو ٹی وی اینکرز پروگرامز کر رہے ہوتے ہیں، جس پر جج نے ریمارکس دیے کہ آپ اس پر بات نہ کریں، استغاثہ کے دلائل مکمل ہونے دیں پھر آپ کو بھی سنیں گے. جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ڈیڑھ کروڑ ڈالز آف شور کمپنیوں نے چوہدری شوگر ملز کو قرض دیا، یہ رقم کمپنی کے نام پر بیرون ملک سے آئی تھی جبکہ مریم اور یوسف عباس نے دوران تفتیش آف شور کمپنیوں سے اس رقم کی وصولی کی وضاحت نہیں کی، اس پر مزید تفتیش کی ضرورت ہے.

تفتیشی افسر نے کہا کہ 23 کروڑ روپے یوسف عباس اور عبدالعزیز کے اکاﺅنٹس میں دبئی سے رقم آئی جس کی تفتیش کرنا باقی ہے، چوہدری شوگر ملز کے 2 بینک اکاﺅنٹس میں 90 کروڑ روپے نقد جمع کروائے گئے مگر رقم جمع کروانے والے کا نام نہیں بتایا جا رہا‘انہوں نے کہا کہ یہ کہتے ہیں کہ وہ شخص ان کا ملازم ہے مگر رقم جمع کروانے والے شخص کا ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا.

اس موقع پر مریم نواز کے وکیل نے دلائل دینا شروع کیے اور جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کی اور کہا کہ یہ تفتیشی رپورٹ حقائق کے برعکس ہے‘امجد پرویز نے کہا کہ 1992 میں میاں شریف کے نام پر تمام جائیدادیں تھیں،1992 سے 1999 تک میاں شریف نے جائیدادیں اپنے بچوں کے نام منتقل کیں، جس کے بعد پرویز مشرف کا دور آیا اور اہل خانہ کے افراد بیرون ملک چلے گے‘ امجد پرویز نے کہا کہ 2016 سے ان کے موکل کے پاس کوئی شیئرز نہیں ہیں جبکہ یوسف عباس نے بھی کوئی عوامی عہدہ نہیں رکھا نہ ہی اس سے متعلق کوئی شہادت پیش کی گئیں.

دوران سماعت ملزمان کے وکیل نے کہا کہ محض رقم اکاﺅنٹ میں آنے پر الزام لگایا جا رہا ہے جبکہ رقم اکاﺅنٹ میں آنا کوئی جرم نہیں ہے، کوئی بھی ایسی وجہ اب موجود نہیں کہ ملزموں کا جسمانی ریمانڈ دیا جائے‘انہوں نے کہا کہ نیب نے آج پرانی باتوں کو ہی بنیاد بنا کر جسمانی ریمانڈ مانگا ہے. اس موقع پر عدالت میں موجود مریم نواز نے نیب کی تفتیشی رپورٹ مسترد کر دی‘مریم نواز نے کہا کہ میرے سے ایک روپے کی کرپشن کے بارے میں سوال نہیں کیا گیا، 42 روز میں کرپشن کا سوال نہیں کیا گیا، بار بار یہ پوچھتے ہیں کہ آپ کے دادا نے آپ کو کاروبار کیوں دیا.

انہوں نے کہا کہ میں ایک سو ایک دفعہ بتا چکی ہوں کہ کوئی اپنے ہی بچوں کو جائیداد کا حصہ دیتا ہے کسی ہمسائے کو تو نہیں دیتا؟ اگر ان کو دستاویزات کی ضرورت تھی تو کیوں مجھے ابتدائی طور پر گرفتار کیا گرفتاری کے بعد کوئی کیسے دستاویزات لا کر دے سکتا ہے‘انہوں نے الزام لگایا کہ مجھے سیاسی بنیاد پر گرفتار کیا گیا کیونکہ میں جلسے کر رہی تھی. بعد ازاں عدالت میں مریم نواز کی بات مکمل ہونے پر درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے دونوں ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں 7 روز کی توسیع کردی.