نواز شریف نے طے کر لیا کہ وہ صرف وہی ڈیل کریں گے جس میں ان کی عزت اور آئینی جمہوریت کا تحفظ شامل ہو

نواز شریف کو اقتدار نہیں چاہئیے اور وہ اس بات کی قیمت چُکانے کے لیے بھی تیار ہیں، عمران خان کی حکومت ملک کی پہلی حکومت ہے جسے اسٹیبلشمنٹ اور ایجنسی کی مکمل اور غیر مشروط حمایت حاصل ہے۔ انصار عباسی کا شاہد خاقان عباسی سے متعلق کالم

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین ہفتہ ستمبر 13:52

نواز شریف نے طے کر لیا کہ وہ صرف وہی ڈیل کریں گے جس میں ان کی عزت اور ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 21 ستمبر 2019ء) : سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اس وقت نیب کی حراست میں ہیں۔ شاہد خاقان عباسی کی نیب حراست سے متعلق سینئیر صحافی انصار عباسی نے اپنے حالیہ کالم میں لکھا کہ سابق وزیراعظم نے ادارے کی احتساب کی مہم کو ''ناقابل یقین حد تک وحشیانہ'' قرار دیا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ کہتے ہیں دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں۔

لیکن شاہد خاقان عباسی شاید یہ بات اُس وقت بھول جاتے ہیں جب نیب حراست کے دوران وہ جیل میں خود کلامی کرنے لگ جاتے ہیں۔ عباسی کو شاید یہ بھی معلوم نہیں کہ نیب کے پنڈی آفس کی دیواریں باتیں بھی کرتی ہیں۔ جو کچھ اُن دیواروں نے سنا اور اس نمائندے کو بتایا وہ شاید پڑھتے ہوئے اچھا نہ لگے۔ جو کچھ اُس دیوار نے کہا میں بتاتا ہوں: نواز شریف نے طے کر لیا ہے۔

(جاری ہے)

وہ صرف وہی ڈیل کریں گے جس میں ان کی ''عزت'' اور آئینی جمہوریت کا تحفظ شامل ہو۔ انہیں اقتدار نہیں چاہئیے اور وہ اس بات کی قیمت چکانے کے لیے بھی تیار ہیں۔ اپنے بارے میں شاہد خاقان عباسی کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ الحمد للہ، مجھے کسی بات پر شرمندگی نہیں۔ انصار عباسی نے کہا کہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ میں اپنے 10 ماہ کے دوران ''جن لوگوں کو آپ جانتے ہیں ان کے سامنے'' پیش پیش رہا لیکن میں نواز شریف کی پیٹھ میں چھرا نہیں گھونپ سکتا اور ایسا نہیں ہوتا، وجہ چاہے کچھ بھی ہو لیکن عوام نواز شریف کو جانتے ہیں۔

نیب کی دیواروں نے شاہد خاقان عباسی کو یہ کہتے ہوئے بھی سنا کہ نواز شریف کوئی فرشتہ نہیں، لیکن وہ چور بھی نہیں۔ جب آپ دولت کماتے ہیں تو ہمیشہ ایک اور فریق بھی شامل ہوتا ہے، جسے ادائیگی کرنا ہوتی ہے۔ شاہد خاقان عباسی کا دعویٰ ہے کہ 30 سال کے دوران میں اب تک اس شخص کو تلاش کر رہا ہوں جس نے نواز شریف کو ادائیگی کی ہو۔ اس کے بعد وہ غلط اقدامات کی بات کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کے پاس بتانے کیلئے بہت کچھ ہے لیکن مقصد یہ نہیں۔ پاکستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شاہد عباسی نے کہا کہ کسی بھی کمپنی میں صرف ایک شخص ہوتا ہے جسے ساری بات معلوم ہوتی ہے، اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ اسے سب معلوم ہوتا ہے اور وہ چیف ایگزیکٹو افسر ہوتا ہے۔ اسی طرح کسی بھی ملک کا سارا منظر نامہ ایک ہی شخص کو معلوم ہوتا ہے - وزیراعظم۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے زندہ وزرائے اعظم میں نواز شریف بھی ہیں اور وہ اس پوری کہانی کی تشریح کر سکتے ہیں۔ اسلئے نہیں کہ وہ کوئی راکٹ سائنسدان ہیں بلکہ اسلئے کہ ان میں فطری طور پر اُن معاملات پر توجہ دینے کی صلاحیت موجود ہے جنہیں وہ اہمیت کا حامل سمجھتے ہیں اور اکثر وہ درست ہوتے ہیں۔ شاہد عباسی کی رائے میں یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز ا شرف، چوہدری شجاعت حسین اور میر ظفر اللہ جمالی کے پاس سیاسی تجربہ تو تھا لیکن انہیں سرکاری پیچیدگیوں کا علم نہیں تھا اسلئے وہ نمایاں حصہ ادا نہ کر سکے۔

موجودہ حکومت کے حوالے سے شاہد خاقان عباسی کو نیب کی جیل کی دیوار نے یہ کہتے ہوئے سنا کہ عمران خان کی حکومت ملک کی پہلی حکومت ہے جسے اسٹیبلشمنٹ اور ایجنسی کی مکمل اور غیر مشروط حمایت حاصل ہے، میڈیا کو مار مار کر تابع کیا جا چکا ہے، عدلیہ بھی حامی ہے جبکہ نیب کو ایک ایسے فعال آلہ کار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے جس کا کام اپوزیشن کو دبانا ہے جبکہ تمام صوبے بھی تعاون کر رہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود حکومت کام نہیں کر پا رہی۔ انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ ہم تباہی کی طرف بڑھ رہے ہیں بلکہ تباہی کا سامنا کر رہے ہیں۔