جامعہ سندھ جامشورو کے سینڈیکیٹ کا 200واں اجلاس،گزشتہ خصوصی اجلاس کے منٹس کی منظوری دی گئی

پیر دسمبر 22:54

حیدرآباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 دسمبر2019ء) جامعہ سندھ جامشورو کے سینڈیکیٹ کا 200واں اجلاس وائس چانسلراور سینڈیکیٹ کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد برفت کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس کے آغاز میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد برفت نے سینڈیکیٹ کے تمام معزز ممبران کو خوش آمدید کہا۔ اس کے بعداتفاق رائے سے گزشتہ خصوصی اجلاس کے منٹس کی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں متفقہ طور پر مختلف انسٹیٹیوٹس، سینٹرز کے ڈائریکٹرزاور ڈیپارٹمینٹز کے چیئرمینز کی 3سال کے لئے تقرری کی منظوری دینے سمیت ایجنڈا میں شامل مختلف آئٹمز پر غور کے بعد اہم فیصلے کئے گئے۔ اجلاس میں پروفیسر ڈاکٹر طارق حسن عمرانی کو انسٹیٹیوٹ آف انگلش لینگویج اینڈ لٹریچر، پروفیسر ڈاکٹر خلیل الرحمان کھونباٹی کو انسٹیٹیوٹ آف انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی، پروفیسر ڈاکٹر صدف تبسم قریشی کو انسٹیٹیوٹ آف پلانٹ سائنسز، پروفیسر ڈاکٹر سونیہا اسلم کو سینٹر فار فزیکل ایجوکیشن ہیلتھ اینڈ اسپورٹس سائنسز، پروفیسر ڈاکٹر فریال عالمانی کو سینٹر فار انوارمینٹل سائنس کا تین سال کے لئے ڈائریکٹر جب کہ پروفیسر ڈاکٹر غلام حیدر تالپور کو شعبہ اسٹیٹسٹکس، پروفیسر ڈاکٹر محمد اسحاق سمیجو کوشعبہ سندھی، پروفیسر ڈاکٹر محمد رفیق خان کو شعبہ اردو، پروفیسر ڈاکٹر عابدہ صدیقی کو شعبہ ایجوکیشن، پروفیسر ڈاکٹر نثار احمد صبوحپوٹو کو لائبریری انفارمیشن سائنس اینڈآرکائیواسٹڈیز شعبے کا تین سال کے لئے چیئرمین مقرر کرنے کی متفقہ طور پر منظوری دی گئی۔

(جاری ہے)

اجلاس میں انسٹیٹیوٹ آف سندھالوجی کے ڈائریکٹر کی بطور چیئرمیں شعبہ سندھی تقرری کے بعد انسٹیٹیوٹ کا نیا ڈائریکٹر مقرر کرنے پر اتفاق کیا گیا اور یہ تقرری کرنے کے لئے وائس چانسلر جامعہ سندھ پر اعتماد کا اظہار کیا گیا جنہوں نے کہا کہ جلد ہی کسی مناسب آدمی کو یہ اہم ذمہ داری سونپی جائے گی اجلاس میں فارمیسی، انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی، اور الیکٹرانکس کے شعبوں میں سلیکشن بورڈ کی جانب سے ایڈھاک بنیادوں پر لیکچررز کی تقرری کے لیئے کی گئی سفارشات کی حتمی منظوری بھی دی گئی۔

اجلاس میں سلیکشن بورڈ کی سفارشات کی روشنی میں جامعہ کی انجینئرنگ ونگ میںایڈوائیزر انجینئرنگ، پروجیکٹ ڈائریکٹر اور انجینئرز کی، کی گئی تقرری کی بھی منظوری دی گئی۔اس موقع پر یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ تین سال تک لیئن دینے کا اختیار وائس چانسلر کو حاصل ہوگاجب کے چوتھے سال کی لیئن کی اسپیشل کیس کے طور پر سینڈیکیٹ سے منظوری لینا لازمی ہوگی جو غیر معمولی حالات اور خاص اسباب سے مشروط ہوگی اجلاس میں نامزد اور منتخب ممبران نے شرکت کی جن میں وزیراعلیٰ سندھ کے سیکریٹری برائے یونیورسٹیز اینڈ بورڈزمحترم محمد ریاض الدین، وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے نامزد ممبرشاھ لطیف چیئر کراچی یونیورسٹی کی سابقہ ڈائریکٹر اور سندھی لینگویج اتھارٹی کی سابقہ چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر فہمیدہ حسین، ہائیر ایجوکیشن کمیشن ، اسلام آباد کے چیئرمین کی جانب سے نامزد ممبر سابقہ وفاقی سیکریٹری محترم فضل اللہ قریشی، ہائیر ایجوکیشن کمیشن ،سندھ کی چیئرپرسن کی جانب سے نامزد ممبر سابقہ وفاقی سیکریٹری محترم امتیاز قاضی، جسٹس علی سائیں ڈنو میتلو، مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے سابقہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالاحد ابڑو، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی حیدرآباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر الدین شیخ، جامعہ سندھ کی فیکلٹی آف لاء کے ڈین جھمٹ جیٹھانند، منتخب ممبران پروفیسر ڈاکٹر عرفانہ بیگم ملاح، ڈاکٹر رفیق احمد لاشاری، جمشید بلوچ، ڈاکٹر اسد اللہ بلیدی شامل تھے۔

اجلاس میں جامعہ سندھ کے رجسٹرار ڈاکٹر امیر علی ابڑو بھی موجود تھے ۔