ملک اس وقت بدترین آئینی بحران میں داخل ہوگیا ہے،سید مصطفی کمال

وزیر اعظم عمران خان اپوزیشن لیڈر سے بات نہیں کرتے مگرنریندر مودی سے بات کرنے کے لیے ترس رہے ہیں،چیئرمین پی ایس پی کی میڈیا سے گفتگو

بدھ دسمبر 17:23

ملک اس وقت بدترین آئینی بحران میں داخل ہوگیا ہے،سید مصطفی کمال
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 04 دسمبر2019ء) پی ایس پی کے چیئر مین مصطفی کمال نے کہا ہے کہ ملک میں جو کچھ ہورہا ہے وہ مناسب نہیں ملک اس وقت بدترین آئینی بحران میں داخل ہوگیا ہے۔بدھ کو نیب عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مصطفی کمال نے کہا کہ میِڈیا میری درخواست کی غلط خبر نشر کرتا ہے، میری عدالت میں کوئی درخواست نہیں ہے ،ملک اس وقت خطرناک آئینی بحران میں داخل ہوگیا ہے، چیف الیکشن کمشنر کا انتخاب ہونا ہے، وزیر اعظم عمران خان اپوزیشن لیڈر سے بات کر کے فیصلہ کریں کہ کسے منتخب کیا جائے، وزیر اعظم عمران خان اپوزیشن لیڈر سے بات نہیں کرتے مگرنریندر مودی سے بات کرنے کے لیے ترس رہے ہیں۔

اس حکومت کے پاس عوامی اکثریت نہیں ہے، اس صورتحال پر حکومت کو لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام اپوزیشن جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے، ملک میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ مناسب نہیں ہے، حکومتی اراکین اپوزیشن سے تیز و تند لہجے میں بات کر رہے ہیں، ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے بیرون ممالک سے کون پیسہ لگائے گا ملک اس وقت آٹو پر چل رہا ہے، اس ملک کا کوئی پرسان حال نہیں ہے، کسی کے گھر توڑے جارہے ہیں، کسی کو کتے کاٹ رہے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہا کہ مذاکرات کے بعد مولانا دھرنا ختم کر چلے گئے، لیکن اب آپ انہیں منہ چڑا رہے ہیں، یہ ملک کسی ایک انسان کی جاگیر نہیں ہے، طلبہ یونین کی بحالی آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہونی چاہیے، مگر اس حکومت سے کسی کو کوئی امید نہیں ہے، زرداری صاحب کی طبیعت ناساز ہے تو انہیں ملک سے باہر لے کر جانا چاہیے، بلاول صاحب انکا علاج کروانے کے بعد سندھ میں اسپتال بنوائہں، ایسے اسپتال بنوائیں جہاں آصف زرداری اور عام آدمی کا علاج ہوسکے۔

مصطفی کمال نے کہا کہ چشتی نگر میں آپریشن پر بہت تحفظات ہیں، لوگوں کو بے گھر کیا جارہا ہے، کِیا ریاست مدینہ میں کسی کو بے گھر کیا جاتا میں نے اپنے دورمیں لیاری ایکسپریس وے کی تعمیر کے دوران گھر توڑے مگر انکا متبادل دیا، اس قبل ساحل کی سرکاری اراضی کی غیر قانونی الاٹمنٹ ریفرنس ، میں چیئر مین پاک سر زمین پارٹی و سابق سٹی ناظم سید مصطفی کمال اور دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے جبکہ نِیب کے تفتیشی افسر عبدالفتح عدالت میں پیش نہیں ہوئے، تفتیشی افسر کی عدم حاضری پر عدالت نے اظہار برہمی کیا ادھر ملزم زین ملک کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کردی گئی جس میں کہا گیا کہ عدالت کی جانب سے جاری وارنٹ گرفتاری معطل کئے جائیں ،ملزم نیب سے مکمل تعاون کرنے کے لئے تیار ہیں، زین ملک کے وارنٹ گرفتاری معطل کرنے کا حکم دیا جائے ،عدالت کا کہنا تھا کہ آپ اگر اس عدالت کے فیصلے سے مطمئن نہیں ہیں تو اسکو چیلنج کریں ،اس حوالے سے آج ہی کوئی فیصلہ کیا جائے گا ،عدالت نے سماعت 23 دسمبر تک ملتوی کردی۔