کچھ مایوس لوگوں نے گزشتہ روز اسلام آباد میں ایک گھبرائے ہوئے شخص سے ملاقات کی ،گھبرائے ہوئے شخص نے ان سے کہا کہ گھبرانا نہیں، وزیراعلیٰ سندھ

یہ جو مایوس لوگ اسلام آباد ملنے گئے تھے ان کو ہمیشہ مایوسی ہوگی ،ہم کام کرتے رہیں گے اور وہ مایوس ہوتے جائیں گے، وہ گھبرایا ہوا شخص کراچی کے تاجروں کو چور کہتا ہے، مرادعلی شاہ

ہفتہ دسمبر 23:49

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 07 دسمبر2019ء) وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ کی حزب اختلاب کا وزیراعظم کے ساتھ ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہاہے کہ کچھ مایوس لوگوں نے گزشتہ روز اسلام آباد میں ایک گھبرائے ہوئے شخص سے ملاقات کی اور اس گھبرائے ہوئے شخص نے ان سے کہا کہ گھبرانا نہیں، یہ جو مایوس لوگ اسلام آباد ملنے گئے تھے ان کو ہمیشہ مایوسی ہوگی کیونکہ ہم کام کرتے رہیں گے اور وہ مایوس ہوتے جائیں گے۔

وہ گھبرایا ہوا شخص کراچی کے تاجروں کو چور کہتا ہے۔ وزیراعظم نے سی سی آئی کا اجلاس دسمبر 11 کو بلایا تھا مگر بعد میں انہوں نے اس اجلاس کو ملتوی کردیا۔انہوں نے یہ بات 5.9 ارب روپے کے 7 ترقیاتی منصوبوں جن کا افتتاح چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے آج بروز ہفتہ شہید ملت روڈ پر کیا، کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

(جاری ہے)

وزیراعلی سندھ نے کہا کہ ان کی حکومت کی کارکردگی نے سندھ کے متعدد مسترد سیاسی لوگوں کی نیندیں حرام کردی ہیں، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اسلام آباد کا سفر کیا اور ایک گھبرائے ہوئے شخص سے ملاقات کی اور ان سے یہ درخواست کی کہ سندھ کی صوبائی حکومت کے خلاف کارروائی کریں ۔

یہ گھبرایا ہوا شخص مزید گھبرا گیا ہے اور گھبراہٹ میں اپنے گروپ کو کہہ رہاہے کہ وہ گھبرائیں نہیں۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ وہ اسلام آباد میں بیٹھا ہوا شخص ان سے خوفزدہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس نے اپنے دورہ کراچی کے دوران نہ ان سے ملاقات کی اور نہ ہی وہ سی سی آئی کا اجلاس بلا رہاہے کیونکہ وہ اس قابل نہیں ہے کہ وہ میرا سامنا کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جانتا ہے کہ جب مراد علی شاہ سی سی آئی کے اجلاس میں شرکت کرے گا تووہ فنڈز چھین لے گا جو پی ٹی آئی کی حکومت نے روک رکھے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ہاں! آج سیاسی طورپر مسترد کئے گئے لوگ مزید گھبراہٹ کا شکار ہوں گے کیوں کہ آج پیپلزپارٹی کے چیئرمین متعدد منصوبوں کا افتتاح کررہے ہیں۔ جو کہ انہوں نے اپنے گزشتہ دور کے آخر میں شروع کیے تھے۔ افتتاحی پروگرام میں نامور کاروباری افراد سے خطاب کرتے ہوئے وزیرا علی سندھ نے کہا کہ اسلام آباد کا گھبرایا ہوا شخص آپ کو چور کہہ رہا ہے حالانکہ آپ قومی خزانیمیں بڑے پیمانے پر اپنا حصہ ڈالتے ہو۔

اسلام آباد میں بیٹھا ہوا شخص(وزیراعظم) میڈیا کے ذریعے سیکھ رہا ہے کہ غریب افراد مہنگائی کا بوجھ برداشت کرنے کے قابل نہیں ہیں مگر سندھ کے لوگوں کے قریب ہونے کی وجہ سے ہم لوگوں کا دکھ محسوس کرسکتے ہیں ۔مراد علی شاہ نے کہا کہ چند منصوبے مثلا گرین لائن اور منگھوپیر روڈ کی دوبارہ تعمیر پی ایم ایل (این) کی وفاقی حکومت نے شروع کیے تھیمگر آپ نے کراچی کے بڑے دعویدار ہونے کا دعوی کرتے ہوئے آپ(وزیراعظم) نے یہاں نہ تو کسی ایک منصوبے کا آغاز کیا ہے اور نہ ہی نواز حکومت کے شروع کیے گئیمنصوبوں کو مکمل کیا ہے۔

وزیراعلی سندھ نے کہا کہ انہوں نے ورلڈ بینک کے تعاون سے کراچی ڈائیگنوسٹک اسٹڈی کرائی تھی جس میں یہ بتایا گیا کہ کراچی کی ترقی کے لیے ایک ٹریلین روپوں کی ضرورت ہے۔کراچی کے میئر نے آج ان سے ملاقات کی اور2 ارب روپے کا ترقیاتی کاموں کے لیے مطالبہ کیا جو کہ میں نے انہیں دے دیئے مگر اس کے ساتھ ساتھ انہیں بتایا کہ یہ رقم اس گنجان آباد شہر کے لیے بہت کم رقم ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ انہوں نے کراچی میگا پروجیکٹ کے تحت 36 منصوبے شروع کیے جن میں سے زیادہ تر مکمل ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شاہراہ فیصل کی دوبارہ تعمیر اور توسیع برساتی نالوں کے ساتھ تعمیر ہوئی ہیجوکہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے 1970 کے دور میں تعمیر ہونے کے بعد اب دوبارہ تعمیرہوئی ہے۔ترقیاتی منصوبوں سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیراعلی سندھ نے کہا کہ یہ ہمارے لیے قابل فخر بات ہے کہ ہم کراچی کے شہریوں کے لیے سندھ حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی کامیاب تکمیل کیبعد ان کا افتتاح کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ منصوبوں کی فہرست طویل ہیجوکہ حال ہی میں مکمل ہوئے ہیں۔انہوں نے شاہراہ فیصل، یونیورسٹی روڈ حسن اسکوائر تا صفوراں گوٹھ، حب ریور روڈ ، مدین الحکمت روڈ ،سڑک فوارہ چوک تا کراچی چڑیا گھر ،کینٹ ریلوے اسٹیشن کی خوبصورتی اور اس کے اطراف کے علاقوں کی بہتری،ڈرگ روڈ انڈر پاس اور منزل پمپ فلائی اوور N-5 شامل ہیں ۔ وزیراعلی سندھ نے کہا کہ طارق روڈ انڈر پاس ، جو 589.9 ملین روپے کا پروجیکٹ ہے ،بیگم رعنا لیاقت علی فلائی اوور، جو 668.2 ملین روپے کی رقم سے 7 ماہ میں مکمل ہوا،ٹیپو سلطان روڈ کی تعمیر نو،جو 308.6 ملین روپے کی رقم سے 5 ماہ میں مکمل ہوا ،سن سیٹ فلائی اوور، جو460.4 ملین روپے کی رقم سے 5 ماہ میں مکمل ہوا،سب میرین چورنگی انڈر پاس 460 ملین روپے کی رقم سے مکمل ہوا ،سید صبغت اللہ شاہ راشدی روڈ، جو 693.5ملین روپے کی رقم سے 15 ماہ میں مکمل ہوا۔

12000 روڈ کورنگی ، جو 1002.0 ملین روپے کی رقم سی9 ماہ میں مکمل ہوا۔وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ سڑکوں کے انفراسٹرکچرکے ساتھ ساتھ سندھ حکومت دیگر شعبوں مثلا پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کی بہتری کے منصوبوں اور فائر فائیٹنگ اور ڈیزازٹر مینجمنٹ وغیرہ میں بھی سرمایہ کاری کررہی ہے ۔ انہوں نے درج ذیل منصوبوں کا حوالہ دیا۔انہوں نے کہاکہ پپری فلٹر پلانٹ کی اپ گریڈیشن مکمل ہوچکی ہے ،اورنگی /بلدیہ ٹائون کے لیے پانی کی فراہمی کی لائنیں بچھائی گئی ہیں۔

تمام پانی اور نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنایا گیا ہے انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے کراچی کے لیے 104 میٹر اونچی اسنارکل خرید کی ہے اور 10 فائر فائیٹنگ مشینیں بھی خریدی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مزید فائر ٹینڈر کی خریداری کا عمل جاری ہے ۔انہوں نے کہا کہ پہلے سے مکمل منصوبوں کے ساتھ ساتھ 6 جاری منصوبوں پر کام جاری ہے اور یہ توقع ہے کہ آئندہ مالی سال تک یہ مکمل ہوجائیں گے۔

ان میں 8000 روڈ کورنگی(شاہراہ دارالعلوم)، کورنگی ڈھائی نمبر میں فلائی اوور کی تعمیر، کورنگی 5 میں فلائی اوورکی تعمیر ، شہید ملت ۔ حیدر علی جنکشن انڈر پاس کی تعمیر ،لیمارکیٹ اور صدر کے اطراف میں 12 مختلف سڑکوں کی تعمیر، اورنگی نالے پر پل کی توسیع اور تعمیر۔ وزیراعلی سندھ نے کہا کہ سندھ واحد صوبہ ہے جہاں پی پی پی پروجیکٹ نہ صرف شروع کیے گئے بلکہ انہیں مقررہ مدت میں مکمل بھی کیاگیاہے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد۔ میرپورخاص دو رویہ کیرج وے کا منصوبہ شروع کیاگیا جس سے سندھ حکومت کو بڑے پیمانے پر مالی فوائد حاصل ہوئے اور اس کے ساتھ ساتھ خطے کی سماجی صورتحال میں بھی بہتری آئی۔