نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس لاہور ہائی کورٹ میں جمع کرادی گئیں

رپورٹس میں سابق وزیراعظم کے صحت مند ہونے تک برطانیہ رہنے کی سفارش کی گئی ہے

Mian Nadeem میاں محمد ندیم بدھ جنوری 19:33

نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس لاہور ہائی کورٹ میں جمع کرادی گئیں
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔15 جنوری۔2020ء) سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے لندن سے بھیجی گئی تازہ میڈیکل رپورٹس لاہور ہائی کورٹ میں جمع کرادی گئیں ہیں نواز شریف کے وکیل امجد پرویز نے میڈیکل رپورٹس عدالت میں جمع کرائیں. لندن کے امراض قلب کے کنسلٹنٹ سرجن ڈیوڈ لارنس کی تیار کردہ میڈیکل رپورٹس میں نواز شریف کے صحت مند ہونے تک برطانیہ رہنے کی سفارش کی گئی ہے میڈیکل رپورٹس کے مطابق نواز شریف کے امراض قلب کی ادویات بوقت ضرورت جاری رہیں گی.

(جاری ہے)

میڈیکل رپورٹس میں سرجن ڈیوڈ لارنس نے کہا ہے کہ نواز شریف کی انجیو گرافی فوری طور پر کروائی جائے عدالت میں جمع کرائی گئیں میڈکل رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف کے پلیٹ لیٹس کو برقرار رکھنے کے لیے ماہرین اقدامات کررہے ہیں. واضح رہے کہ آج ملتا ن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیرصحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا تھا کہ سزا یافتہ قیدی نواز شریف اپنی صحت سے متعلق رپورٹس نہیں بھیجتے اور ضمانت میں توسیع کی درخواست دے رہے ہیں.

یاسمین راشد نے کہا کہ کبھی غلط بیانی نہیں کی اور نہ آئندہ ایسا کوئی ارادہ ہے، اہم یہ ہے کہ نواز شریف کو کچھ ہفتے دیے گئے تھے کہ اپنی بیماری کی تشخیص کرائیں.انہوں نے بتایا کہ 25 دسمبر کو نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے ان کی ضمانت کی مدت میں توسیع کے لیے رپورٹ جمع کرائی، محکمہ داخلہ نے 27 دسمبر کو ہمیں وہ رپورٹس بھجوائیں جس کے بعد ہم نے بورڈ تشکیل دیا تھا.انہوں نے کہا کہ 3 جنوری کو بورڈ کے مکمل ہونے کے بعد جب نواز شریف کی رپورٹس کا جائزہ لیا گیا تو بورڈ نے بتایا کہ خواجہ حارث کی جانب سے بھیجی گئی رپورٹس میں جامع رپورٹ شامل نہیں ہے کہ وہاں کیا ہوا ہے.وزیر صحت نے کہا کہ خواجہ حارث کی جانب سے بھیجی گئی رپورٹس میں ایک پرانی سمری تھی جس میں وہی کچھ لکھا تھا جو پہلے بھی بتایا گیا تھاانہوں نے کہا کہ 25 دسمبر تک نواز شریف کا پی ای ٹی اسکین بھی نہیں ہوا تھا تاہم 3 تاریخ کو ہی ہم نے واپس رپورٹ محکمہ داخلہ کو بھیجی اور کہا کہ یہ ناکافی ہیں مکمل رپورٹس منگوائی جائیں.انہوں نے کہا کہ اس کے بعد 13 تاریخ تک کسی نے ہم سے رابطہ نہیں کیا اور پھر میں نے خود نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کو ٹیلی فون کیا تو انہوں نے کہا کہ میں رپورٹس بھجوادوں گا.انہوں نے بتایا کہ رپورٹس آنے کا طریقہ کار یہ ہے کہ نواز شریف صاحب کی جانب سے رپورٹس برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن کو جمع کرائی جائیں گی جو تصدیق کے بعد محکمہ داخلہ کو بھیجے گا جہاں سے پھر ہمیں موصول ہوں گی اور اس کے بعد بورڈ تشکیل دیا جائے گا اور پھر رائے دی جاسکے گی.انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس رپورٹس اب تک نہیں آئی ہیں، نواز شریف صاحب سزا یافتہ قیدی تھے، مہربانی کرکے جلد از جلد اپنا علاج کرائیں اور واپس آجائیں‘یاد رہے کہ دو روز قبل سوشل میڈیا پر نواز شریف کی چند تصاویر منظر عام پر آئی تھیں جس میں انہیں پارٹی کے دیگر راہنماﺅں کے ساتھ ریسٹورنٹ میں بیٹھے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے.ان تصاویر کے منظر عام پر آنے کے بعد حکومتی جماعت کی جانب سے سابق وزیر اعظم کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کی خرابی صحت کے دعوﺅں پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا تھا.ادھرسابق وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان ذاتی طور پر میرے والد کی صحت پر سیاست کررہے ہیں.

لندن میں صحافیوں سے گفتگو میں حسین نواز نے کہا کہ حکومت کی دو سے تین پریس کانفرنسز کا مقصد سیاسی تھا جبکہ ہم متعلقہ اداروں کو بروقت میڈیکل رپورٹس بھجوا چکے ہیں انہوں نے کہا کہ عمران خان عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں، اس لیے وزیراعظم نے نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کو ٹارگٹ کیا ہوا ہے. حسین نواز نے مزید کہا کہ پاکستان میں خراب معاشی حالات کی وجہ سے لوگ خودکشیاں کر رہے ہیں جبکہ عمران خان کے ذہن پر نواز شریف اور ان کی بیٹی سوار ہیں.انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی صحت سے متعلق قانونی دستاویزات متعلقہ حکام کو پہنچائی جاچکی ہیں، سابق وزیراعظم کی صحت پر حکومت کا سیاست کرنا افسوسناک ہے.