ٰٹنڈوالہ یار ، پولیس کی پیر کاٹھی کے مقام پر کاروائی ،خام مال سے بھرا ٹرالر پکڑلیا،ملزم فرار

ٹرالر میں موجود مین پڑی بنانے کے خام مال کی قیمت 800کروڑوں روپے بنتی ہے ،پولیس نے مک مکائو کرکے ایف بی آر کو 200کٹوں کی انٹری کرا دی

ہفتہ جنوری 23:10

ٹنڈوالہ یار(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 18 جنوری2020ء) بی سیکشن تھانے کی پولیس کی پیر کاٹھی کے مقام پر بڑی کاروائی میں مین پڑی بنانے کا خام مال سے بڑا ٹرالر کو پکڑ کر ٹرالر میں موجود 800سے زائد کروڑوں روپے کا مین پڑی بنانے کا خام مال برآمد ملزم فرار پولیس نے مک مکا کرکے 800کٹوں کے بجائے ایف آئی آر میں صرف200کٹوں کی انٹری کی ہے عوام میں تشویش پھیل گئی تفصیلات کے مطابق ٹنڈوالہ یار کے بی سیکشن تھانے کی پولیس نے ایک اطلاع پر ٹنڈوالہ یار کے حیدرآباد روڈ پر واقع پیر کاٹھی کے مقام پر ناکہ بندی کرکے حیدرآباد سے ٹنڈوالہ یار آنے والے ایک ٹرالر کو روک کر چیکنگ کی چیکنگ کے دوران مذکورہ ٹرالر سے مین پڑی بنانے کا خام مال کے کٹے جن کی تعداد 800بتائی جاتی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ ان برآمد ہونے والے مین پڑی بنانے کے خام مال کے کٹوں کی مالیت کروڑوں روپے ہے جسے پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا ذرائع سے معلوم ہواہے کہ مذکورہ ٹرالر سے برآمد ہونے والا مین پڑی کا خام مال ٹنڈوالہ یار کے مین پڑی کے ڈیلر اسلم رند نامی شخص کا ہے جس نے پولیس سے بھاری مک مکا کرکے مذکورہ پکڑے گئے 800مین پڑی کے خام مال کے کٹوں میں سے صرف 200کٹے مبینہ طور پر ظاہر کرائے ہیں پولیس نے مبینہ طور پر مک مکا کرکے پکڑے گئے مین پڑی خام مال کے 800کٹوں میں سے صرف 200کٹے ظاہر کرکے ایف آئی آر درج کردی گئی جبکہ ملزم کو ایف آئی آر میں فرار دکھایا گیا ہے واضع رہے کہ گزشتہ دو ماہ قبل سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے مین پڑی ، گٹکا فروخت کرنے اور اس کو بنانے والوں کے خلاف سخت کاروائی اور ان کو گرفتار کرنے کی سخت ہدایت کے باوجود ٹنڈوالہ یار اور اس کے گردنواح کے علاقوں میں پولیس کی مبینہ سرپرستی میں کھلے عام مین پڑی ، گٹکا سفینہ ودیگر مضر صحت نشہ آور اشیاء فروخت کی جارہی ہے اس کی عوام اور مختلف سیاسی سماجی ، سول سوسائیٹی کی جانب سے اعلیٰ انتظامیہ کو شکایتیں کرنے کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا اور صحافیوں کی جانب سے خبریں بھی شائع ہونے کے باوجود ان کے خلاف کسی قسم کی کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی جارہی تھی زرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ان خبروں اور مختلف سیاسی سماجی تنظیموں کے رہنمائوں و سوشل سوسائیٹی کے نمائندوں کی جانب سے انتظامیہ کے اعلیٰ افسران تک ان شکایتوں کے پہنچنے پر ٹنڈوالہ یار پولیس نے مختصر کاروائی کرتے ہوئے مذکورہ مین پڑی کے ڈیلر اسلم رند کے آنے والے مین پڑی کے خام مال پر کاروائی کرکے 800سے زائد مین پڑی کے خام مال کے کٹے برآمد کرکے صرف 200کٹوں کی برآمدگی دکھائی ہے جبکہ ٹنڈوالہ یار میں تاحال بھی درجنوں مین پڑی ، گٹکے کا کاروبار کھلے عام چل رہا ہے جہاں ہزاروں کی تعداد میں مین پڑی ، گٹکا بنانے کے ساتھ ساتھ ٹنڈوالہ یار شہر اور اس کے گردنواح کے علاقوں میں فروخت کرنے کا سلسلہ جاری ہے شہریوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مین پڑی ، گٹکا بنانے والوں کے خلاف کاروائی کرنے کا عمل پولیس کے بجائے رینجرز اور پاک فوج کو دیا جائے تاکہ سندھ کے دیگر شہروں کی طرح ٹنڈوالہ یار سے بھی مین پڑی ، گٹکا ، سفینہ و دیگر نشہ آور اشیاء بنانے اور اس کو فروخت کرنے کا کام ختم ہوسکے اور اس کے عادی کینسر جیسی موذی بیماریوں سے بچ سکیں