تمباکو کے استعمال سے ملک کے معاشی اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے، تمباکو کے استعمال سے پھیلنے والی بیماریوں کی روک تھام کیلئے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے،

پاکستان میں سگریٹ نوشی پر سالانہ اٹھنے والے اخراجات تقریباً 143 ارب روپے ہیں چیف ایگزیکٹو آفیسرایچ ڈی ایف اظہر سلیم کی صحافیوں سے گفتگو

بدھ فروری 17:03

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 26 فروری2020ء) چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیومن ڈویلپمنٹ فائونڈیشن اظہر سلیم نے کہا ہے کہ تمباکو کے استعمال سے ملک کے معاشی اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے، تمباکو کے استعمال سے پھیلنے والی بیماریوں کی روک تھام کیلئے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے، پاکستان میں سگریٹ نوشی پر سالانہ اٹھنے والے اخراجات تقریباً 143 ارب روپے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں ہیومن ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن (ایچ ڈی ایف) کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ تمباکو کے استعمال سے ایک ملک کے معاشی اخراجات پر نمایاں اثر پڑتا ہے، تمباکو کے استعمال سے پھیلنے والی بیماریوں کی روک تھام کیلئے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے، پاکستان میں سگریٹ نوشی کے سالانہ اخراجات تقریباً 143 ارب روپے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا کہ تمباکو کی مصنوعات پر زیادہ ٹیکس سے حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کی کھپت میں بھی کمی آتی ہے۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر سپارک سجاد چیمہ نے کہا کہ ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں اور بچوں کو تمباکو سے بچائیں، اس سلسلے میں سب سے مؤثر اقدام تمباکو کی مصنوعات کی قیمتیں بڑھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ ٹیکس اور ہیلتھ لیوی بل سے سگریٹ کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا جس سے سگریٹ تک رسائی محدود ہوجائے گی اور بالآخر نوجوان خصوصاً بچوں میں تمباکو کے استعمال میں کمی آئے گی۔

نمائندہ سی ٹی ایف ملک عمران نے کہا کہ ٹیکس میں اضافہ سے تمباکو کے استعمال میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ سینئر ماہر معاشیات سوشل پالیسی اینڈ ڈویلپمنٹ سینٹر وسیم سلیم نے کہا کہ پاکستان میں مالی عدم توازن کو بہتر بنانے کیلئے ٹیکس کی مد میں زیادہ محصولات کی ضرورت ہوتی ہے تاہم تمباکو پر ٹیکس لگانے سے سرکاری محصولات کی وصولی بڑھانے میں مدد ملے گی اور حکومت کے عوامی صحت کے مقاصد کو بھی حاصل کیا جا سکے گا۔

متعلقہ عنوان :