پنجاب حکومت نے نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کروانے کیلئے عدالت کا رُخ کرلیا

نوازشریف طبی بنیادوں پر کمیٹی کو مطمئن نہیں کر سکے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کروائے گئےخط کا متن

Khurram Aniq خُرم انیق ہفتہ 7 مارچ 2020 15:01

پنجاب حکومت نے نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کروانے ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ تازہ ترین اخبار-07مارچ2020ء) پاکستان کے سابق وزیراعظم نوازشریف کی ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کرنے کا خط اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کروا دیا گیا ہے۔پنجاب حکومت کی جانب سے خط جمع کرواتے ہوئے موقف اپنایا گیا ہے کہ نوازشریف طبی معاملات میں کمیٹی کو مطمئن نہیں کر سکے، لہذا ان کی ضمانت میں توسیع کی درخواست کو مسترد کیا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ نوازشریف اس وقت لندن میں علاج کے سلسلے میں موجود ہیں۔24 دسمبر کو نوازشریف اسلام آباد ہائی کورٹ سے طبی بنیادوں پر 8 ہفتوں کی ضمانت لے کر لندن گئے تھے جس کے بعد اب ان کو گئے 3 مہینے کا وقت گزر چکا ہے۔ نوازشریف کی جانب سے پنجاب حکومت سے درخواست کی گئی تھی کہ انہیں ابھی علاج کی ضرور ت ہے ، ان کی ضمانت میں توسیع کر دی جائے۔

(جاری ہے)

لیکن پنجاب حکومت کی جانب سے یہ کہہ کر ان کی درخواست کو مسترد کر دیا گیا تھا کہ نوازشریف بیمار نہیں ہیں، وہ 3 مہینوں سے کسی ہسپتال میں داخل نہیں ہوئے اور نہ ہی ان کی میڈیکل رپورٹس تسلی بخش ہیں۔

اس لئے انہیں واپس آنا ہوگا اور اپنی سزا کاٹنی ہو گی۔اس سے قبل حکومت کی جانب سے برطانوی حکومت کو بھی خط لکھا گیا ہے کہ وہ نوازشریف کو وطن واپس بھیجیں۔برطانوی حکومت کو لکھے گئے خط میں لکھا گیا تھا کہ نوازشریف ایک ملزم ہیں، ان کی ضمانت میں توسیع کی درخواست کو مسترد کر دیا گیا ہے، اس لئے انہیں وطن واپس بھیجا جائے۔برطانوی حکومت کی جانب سے ابھی تک اس معاملے پر کسی قسم کو کوئی ردعمل دیکھنے میں نہیں آیا۔

لیکن دوسری جانب اب پنجاب حکومت نے نوازشریف کی ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کرنے کا خط اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کروا دیا ہے جس میں موقف اپنایا گیا ہے کہ نوازشریف طبی بنیادوں پر کمیٹی کو مطمئن نہیں کر سکے، اس لئے ان کی ضمانت کو مسترد کیا جائے اور وطن واپسی کا حکم جاری کیا جائے۔