جمہوریت رہے گی، لیکن موجودہ سسٹم لپیٹا جا رہا ہے، ڈاکٹر شاہد مسعود

اب روزکوئی نہ کوئی نوک جھونک ہوتی رہے گی، عمران خان نے بیان دیا میرے سوا کوئی چوائس نہیں، یہ بات عمران خان نے ہمیں نہیں کہی ہے۔سینئر تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود کا تبصرہ

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ پیر جون 22:07

جمہوریت رہے گی، لیکن موجودہ سسٹم لپیٹا جا رہا ہے، ڈاکٹر شاہد مسعود
لاہور (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 جون 2020ء) سینئر تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا ہے کہ جمہوریت رہے گی، لیکن موجودہ سسٹم لپیٹا جا رہا ہے، اب روزکوئی نہ کوئی نوک جھونک ہوتی رہے گی، عمران خان نے بیان دیا میرے سوا کوئی چوائس نہیں، یہ بات عمران خان نے ہمیں نہیں کہی ہے۔ انہو ں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت رہے گی لیکن یہ ساراسسٹم لپیٹا جا رہا ہے، یہ سسٹم کیسے جائے گا، اس حوالے سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔

لیکن اس طرح کی روز کوئی نہ کوئی بات ہوگی، عمران خان نے بھی کہہ دیا ہے کہ میرے سوا کوئی چوائس نہیں ہے۔ یہ بات انہوں نے ہمیں نہیں کہی، یا نواز شریف نے جب کہا تھا کہ مجھے کیوں نکالا ، یہ جملہ ہمیں نہیں کہا تھا۔ واضح رہے وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز اتحادیوں کے اعزاز میں عشائیہ کے شرکاء سے خطاب میں کہا کہ اتحادیوں کو ساتھ لے کرچلوں گا، بجٹ منظوری کے بعد اتحادیوں کے معاہدوں پر عملدرآمد ہوگا۔

(جاری ہے)

وزیراعظم نے کہا کہ ہم اپنے نظریے پر کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔ ہم اس وقت نیچے گریں گے جب اپنے نظریے سے ہٹ جائیں گے۔ لوگ کبھی خوش ہوں گے کبھی ناراض ہوں گے، ہم نے لوگوں کی حالت بدلنی ہے۔ آج ان لوگوں سے سمجھوتہ کرلوں اور کیسز ختم کردوں تو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا اور میں بھی پانچ سال بڑی آسانی کے ساتھ پورے کرسکتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ روز صبح خبرملتی ہے آج جا رہا ہوں، کل جا رہا ہوں، لیکن میرے سوا کوئی چوائس نہیں ہے، موجودہ جمہوری نظام میں ہماری حکومت کے سوا کوئی چوائس نہیں ہے۔

پی ٹی آئی حکومت اپنی مدت پوری کرے گی۔ گھبرائیں نہیں ہم کہیں نہیں جا رہے، جو بھی بہتری لانی ہے ہم نے ہی لانی ہے۔ لیکن گزشتہ روز وزیراعظم کے عشائیہ میں مسلم لیگ ق، بی این پی اور جمہوری وطن پارٹی کے رہنماؤں نے شرکت نہیں کی تھی۔ آج مرکزی رہنماء ن لیگ خواجہ آصف نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ق لیگ بھی اپوزیشن کے ساتھ مل سکتی ہے۔ ق لیگ کا حکومت میں رہنے کا جوش وخروش ختم ہوگیا ہے، وزیراعظم اعتماد کھو چکے، وزیراعظم پرعدم اعتماد کا آپشن رد نہیں کیا جاسکتا، فوری نئے مینڈیٹ کی ضرورت ہے۔