مصر کی عدالت نے بیلی ڈانسر کو ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی ویڈیو بنانے پر جیل بھیج دیا

ڈانسر سما المصری کو عدالت نے 3 سال قید اور 1500 پاؤند کا جرمانہ بھی عائد کر دیا

Khurram Aniq خُرم انیق منگل جون 11:06

مصر کی عدالت نے بیلی ڈانسر کو ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی ویڈیو بنانے پر جیل ..
مصر(اردوپوائنٹ تازہ ترین اخبار-30جون2020ء) مصر کی عدالت نے بیلی ڈانسر کو ٹک ٹاک پر غیر اخلافی ویڈیو بنانے پر جیل بھیج دیا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق مقامی عدالت نے سوشل میڈیا کے خلاف کریک ڈاؤن کیا ہے جس میں مذکورہ ڈانسر سما المصری کو اخلاقیات کے خلاف ویڈیو بنانے پر سزا کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ڈانسر سما المصری کو عدالت نے 3 سال قید اور 1500 پاؤند کا جرمانہ بھی عائد کر دیا ہے۔

42 سالہ ڈانسر کو اپریل میں آن لائن شیئر کردہ ویڈیوز اور تصاویر کی تفتیش کے دوران گرفتار کیا گیا تھا جس پر اس نے اپنے اوپر لگائے جانے والے الزامات کا مسترد کر دیا تھا کہ جو مواد آن لائن شیئر کیا گیا وہ ان کے موبائل فون سے چوری کر کے بغیر اجازت شیئر کیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

لیکن مقامی عدالت کی جانب سے سزا سناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس نے خاندانی اصولوں اور اقدار کی خلاف ورزی کی ہے اور "بے حیائی" کے ارتکاب کے مقصد سے سوشل میڈیا سائٹوں اور اکاؤنٹس کا استعمال کیا ہے۔

ممبر پارلیمنٹ جان طلعت نےسما المصری اور دیگر ٹک ٹاک صارفین کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ "آزادی اور دھوکہ دہی میں بہت فرق ہے۔" غیر ملکی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے جان طلعت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ یہ لوگ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز کو استعمال کرتے ہوئے ہماری خاندانی روایات کو تباہ کر رہے ہیں جس کی ہمارے قانون میں بالکل اجازت نہیں ہے۔

خیال رہے کہ مصر میں اس طرح کے الزمات میں پہلے بھی اکثر خواتین کو سزا مل چکی ہے، تا ہم ڈانسرسما المصری نے کہا ہے کہ وہ ضمانت کی درخواست دینے کے بارے میں سوچ رہی ہیں۔ خیال رہے کہ ٹک ٹاک اس وقت دنیا بھر میں ایک وبا کی طرح پھیل گیا ہے، لوگوں نے اسے اس قدر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے کہ اکثر مقامات پر اب یہ حادثات کی وجہ بننے لگ گیا ہے۔ یہ کہنا بھی غلط نہ ہو گا کہ ٹک ٹاک نے بہت سے لوگوں کو پہچان دی ہے لیکن اس کے نقصانات بھی بہت زیادہ ہیں۔ تا ہم مصر کی بیلی ڈانسر کو ٹک ٹاک پر ویڈیو شیئر کرنا مہنگا پڑ گیا ہے جس کی وجہ سے اسے عدالت نے 3 سال قید اور 1500 پاؤند کا جرمانہ بھی عائد کر دیا ہے۔