ہر بچے کو مفت تعلیم دینا ریاست کی ذمہ داری ہے ،ایک اندازے کے مطابق پانچ سے سولہ سال تک کی عمر کے 22.8ملین بچے سکول سے باہر ہیں،

مالی عدم توازن کو سمبھالنے کے لیے زیادہ ٹیکس محصول کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، تمباکو ٹیکس لگانے سے حکومت کی آمدنی میں مثبت مدد مل سکتی ہے،سگریٹ کی پیداوار کی کم رپورٹنگ سے سرکاری ٹیکسوں کی محصولات پر منفی اثرات پڑتے ہیں سپارک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سجاد احمد و دیگر کا تمباکو مصنوعات پر ٹیکس میں اضافے کی ضرورت کے حوالے سے کانفرنس سے خطاب

پیر جولائی 17:53

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 27 جولائی2020ء) ادارہ برائے تحفظ حقوق اطفال (سپارک) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سجاد احمد،ہیومن ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن (ایچ ڈی ایف) کے سی ای او کرنل (ر) اظہر سلیم اورسینئر اکانومسٹ سوشل پالیسی اینڈ ڈویلپمنٹ سنٹر (ایس پی ڈی سی) وسیم سلیم نے کہا ہے کہ ہر بچے کو مفت تعلیم دینا ریاست کی ذمہ داری ہے ،ایک اندازے کے مطابق پانچ سے سولہ سال تک کی عمر کے 22.8ملین بچے سکول سے باہر ہیں۔

مالی عدم توازن کو سمبھالنے کے لیے زیادہ ٹیکس محصول کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ تمباکو ٹیکس لگانے سے حکومت کی آمدنی میں مثبت مدد مل سکتی ہے،سگریٹ کی پیداوار کی کم رپورٹنگ سے سرکاری ٹیکسوں کی محصولات پر منفی اثرات پڑتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو روز نیشنل پریس کلب میں تمباکو مصنوعات پر ٹیکس میں اضافے کی ضرورت کے حوالے سے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

اس موقع پر سجاد احمد نے کہا کہ ہر بچے کو مفت اور معیاری تعلیم کی فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ پاکستان میں تقریبا 88 ملین بچے ہیں جو پاکستان کی کل آبادی کا 47 فیصدہیں اور ایک اندازے کے مطابق 5 سے 16 سال کی عمر کے درمیان 22.8 ملین بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ یہ دنیا میں اسکول سے باہر بچوں کی دوسری بڑی تعداد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی تنخواہوں کو مختص کرنا تعلیم پر کام کرنے کے مترادف نہیں ہے۔

بچوں کے ڈراپ آؤٹ تناسب کو روکنے کے لئے پرائمری اسکولوں کو مڈل اور سیکنڈری اسکولوں میں تبدیل کرنے کے لئے خاطر خواہ بجٹ مختص کیا جانا چاہئے۔ اس موقع پر کرنل (ر) اظہر سلیم نے کہا کہ پاکستان میں بڑے مالی عدم توازن کو سمبھالنے کے لیے زیادہ ٹیکس محصول کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ تمباکو ٹیکس لگانے سے حکومت کی آمدنی میں مثبت مدد مل سکتی ہے۔

بیک وقت ، یہ ٹیکس بچوں کی تعلیم کے مقاصد کو فروغ دینے میں بھی مددگار ثابت ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صرف تمباکو پر ٹیکس سے اربوں روپے کی آمدنی ہو سکتی ہے اور اس آمدنی سے تمباکو کے استعمال کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوب نے کہا کہ اس رقم کو تعلیم کے منصوبوں پر لگایا جاسکتا ہے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وسیم سلیم نے کہا کہ پاکستان میں سگریٹ کی پیداوار کی کم رپورٹنگ سے سرکاری ٹیکسوں کی محصولات میں نمایاں منفی اثرات پڑتے ہیں۔

غیر اعلانیہ پیداوار کے باعث ہونے والے محصول کا تخمینہ 31 بلین روپے لگایا گیا ہے جبکہ جی ایس ٹی محصول کو شامل کرکے یہ 37 بلین روپے ہوجاتا ہے۔ خلیل احمد پروجیکٹ منیجر سموک فری سٹیز سپارک نے کہا کہ تمباکو کی صنعت کے دعووں کے مقابلہ میں غیر قانونی تجارت کا حجم بہت کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سگریٹ نوشی کی سالانہ معاشی لاگت 143.208 ارب روپے تک ہے۔ اس موقع پر چوہدری پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن کے سکریٹری جنرل ثناء اللہ گھمن اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ سیشن میں سول سوسائٹی کے کارکنان ، تمباکو مخالف مہم چلانے والے ، ماہرین اور صحافیوں نے شرکت کی۔