بھارتی سول سوسائٹی گروپ کا تمام گرفتارکشمیریوں کی رہائی کا مطالبہ

ہفتہ اگست 13:45

نئی دہلی۔ یکم اگست (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 01 اگست2020ء) بھارتیہ جنتا پارٹی کے سابق رہنما اور سابق وزیر یشونت سہناکی سربراہی میں قائم بھارتی سول سوسائٹی گروپ’’دی کنسرنڈ سٹیزنزگروپ‘‘( سی سی جی) نے بھارتی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں کالے’’ قانون پبلک سیفٹی ایکٹ ‘‘کے تحت گرفتارتمام کشمیریوں کو رہاکرے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سول سوسائٹی گروپ نے مقبوضہ علاقے میں تیز رفتار فور جی انٹرنیٹ کی بحالی اور تمام پرامن سیاسی سرگرمیوں پر سے پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

’’ سی سی جی‘‘ نے پانچ اگست2019 سے دو مرتبہ کشمیر کا دورہ کیا ۔گزشتہ برس ستمبر اور نومبر میں کیے جانے والے دوروں کے دوران گروپ نے علاقے میں یہ بات محسوس کی بھارتی حکومت کے اقدامات کی وجہ سے کشمیریوں کے اندر سخت بے چینی پائی جاتی ہے اور وہ ایک قسم کے صدمے میں ہیں ۔

(جاری ہے)

گروپ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ کشمیری کو یقین ہو چکا ہے کہ بھارتی حکومت انہیں دیوار کے ساتھ لگانا چاہتی ہے اور وہ واضح طور پر اس بات کا اظہار کر رہے ہیں کہ بھارتی حکومت غیر کشمیریوں کو علاقے میں بسا کر یہاں آبادی کے تناسب میں تبدیلی لانا چاہتی ہے اور کورونا وائرس کی وبا کے باعث لاک ڈائون کی آڑ میں کشمیر میں نئے ڈومیسائل قوانین کا نفاذ کیا گیا ۔

کشمیر میں میڈیا جو بھارت کے ان اقداما ت کے بارے میں معلومات دے سکتا تھا اسے بھی دبایا جا رہا ہے ۔ گروپ نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ برس پانچ اگست سے کشمیر میں فور جی انٹرنیٹ پر بھی پابندی مسلسل جاری ہے او ر صرف سست رفتار ٹو جی انٹرنیٹ سروس مہیا کی جارہی ہے جس کی وجہ سے طلبا، نوکری کے متلاشی افراد، کاروباری طبقہ اور عام شہری سخت مشکلات کا شکار ہیں۔