وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی محکمہ مواصلات و تعمیرات کے تحت صوبے میں جاری میگا منصوبوں پر کام تیز کرنے کی ہدایت

صوبائی حکومت منصوبوں کی تکمیل کیلئے درکار وسائل فراہم کریگی،حکومت صوبے میں سیاحت اور صنعت و تجارت کے فروغ کیلئے کوشاں ہے ،مواصلاتی نظام کی تعمیر و ترقی بڑی اہمیت کی حامل ہے، آئندہ ترقیاتی پروگرام میں بھی سڑکوں کے جاری منصوبوں کی تکمیل ترجیح ہو گی ،محمودخان

پیر ستمبر 22:47

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی محکمہ مواصلات و تعمیرات کے تحت صوبے میں ..
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 21 ستمبر2020ء) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے محکمہ مواصلات و تعمیرات کے تحت صوبے میں جاری میگا منصوبوں پر کام تیز کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ صوبائی حکومت منصوبوں کی تکمیل کیلئے درکار وسائل فراہم کرے گی ۔ اُنہوںنے خصوصی طور پر سوات موٹروے کے فیزII ،پشاور سے ڈی آئی خان موٹروے اور دیر موٹروے منصوبوں کی کمرشل اور فنانشل فزیبلٹیز تیزرفتاری سے مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا جاسکے ۔

اُنہوںنے کہاکہ صوبائی حکومت صوبے میں سیاحت اور صنعت و تجارت کے فروغ کیلئے کوشاں ہے جس کے لئے مواصلاتی نظام کی تعمیر و ترقی بڑی اہمیت کی حامل ہے ۔ آئندہ ترقیاتی پروگرام میں بھی سڑکوں کے جاری منصوبوں کی تکمیل ترجیح ہو گی ۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوںنے پیر کے روز محکمہ مواصلات و تعمیرات کے حوالے سے ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے مواصلات و تعمیرات ریاض خان، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری شہاب علی شاہ ، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اور دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس کو محکمہ مواصلات و تعمیرات کے تحت مختلف شعبوں میں جاری اور نئے منصوبوں پر تفصیلی بریفینگ دی گئی۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ایکنک کی طرف سے سوات موٹروے فیزII کیلئے زمین کے حصول کی سکیم کی منظوری دے دی گئی ہے جبکہ پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ یونٹ نے منصوبے کی کمرشل اور فنانشل فزیبلٹی کی سفارش کی ہے۔

اس سلسلے میں رواں ماہ کے آخر تک پی پی پی کمیٹی کا اجلاس متوقع ہے ۔ دیر موٹروے کی کمرشل اور فنانشل فزیبلٹی کیلئے کنسلٹنٹ کی ہائرنگ پر کام شروع ہے ، آئندہ ماہ کے پہلے ہفتے میں کنسلٹنسی ایوارڈ کر دی جائے گی ۔ اس کے علاوہ پشاور سے ڈی آئی خان موٹروے کی کمرشل اور فنانشل فزیبلٹی آئندہ ماہ کے آخر تک مکمل کر لی جائے گی ، اسی طرح بابا سرائے (ضلع بونیر) سے کاٹلنگ انٹر چینج سوات موٹروے تک 29 کلومیٹر طویل روڈ کے منصوبے کا پی سی II تیار کر لیا گیا ہے ۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ خیبرپختونخوا انٹگرٹیڈ ٹوارزم ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کے تحت ملاکنڈ ڈویژن میں سیاحتی مقامات تک رسائی کیلئے مجموعی طور پر 50 کلومیٹر طویل 9 مختلف سڑکوں پر کام شروع ہے ۔ اسی طرح ہزارہ ڈویژن میں سیاحتی مقامات تک رسائی کیلئے پانچ مختلف سڑکوں کی تعمیر کے منصوبے بھی رواں ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہیں،ان منصوبوں پر کام شروع ہے۔

جنوبی اضلاع میں سیاحتی مقام شیخ بدین تک رسائی کیلئے 30 کلومیٹر طویل سڑک کی تعمیر کا منصوبہ بھی رواں ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا گیا ہے ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام2019-20 کے دوران صوبہ بھر بشمول ضم شدہ اضلاع میں سڑکوں کے شعبے میں 33 سکیمیں مکمل کی گئی ہیں۔ اس وقت سڑکوں کے شعبے میں 114 اسکیمیں تکمیل کے مراحل میں ہیں۔

سالانہ ترقیاتی پروگرام 2020-21 میں شامل 507 اسکیموں کیلئے 28522.0 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں ۔اجلاس کو بتایا گیا کہ پختونخوا ہائی ویز اتھارٹی نے مجموعی طور پر 170 کلومیٹر طویل نئی ہائی ویز اور 79 نئے پل تعمیر کئے ہیں۔ اسی طرح مختلف سڑکوں کو دو رویہ کیا گیا ہے جن کی مجموعی لمبائی تقریباً272 کلومیٹر بنتی ہے ۔ سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت پختونخوا ہائی ویز اتھارٹی کی 32 جاری سکیموں کیلئے 1824.758 ملین روپے جبکہ چھ نئی سکیموں کیلئے 215 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں ۔

تیز رفتار ترقیاتی پروگرام کے تحت قبائلی اضلاع میں پانچ اسکیموں کیلئے 800 ملین روپے مختص ہیں۔ اجلاس کو محکمہ مواصلات و تعمیرات میں اصلاحات کے حوالے سے بریفینگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ محکمہ کے تحت ای بڈنگ اور ای بلنگ کا نظام متعارف کرایا جا چکا ہے ۔ جبکہ محکمہ کی تنظیم نو اور ہیومین ریسورس ڈویلپمنٹ پر کام شروع ہے ۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر جاری منصوبوں کی جلد تکمیل اور سیلاب سے متاثرہ انفراسٹرکچر کی بحالی کیلئے درکار وسائل جاری کرنے کی ہدایت کی ۔

اُنہوںنے محکمہ مواصلات و تعمیرات کی تنظیم نو (ری سٹرکچر نگ ) کے حوالے سے سمری جلد پیش کرنے کی ہدایت کی اور کہاکہ محکمہ کے تحت مختلف شعبوں میں منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل کیلئے محکمہ کو مضبوط بنانا نہایت ضروری ہے۔