سپریم کورٹ، پنجاب پولیس کے ملازم محمد شفیع کی تنزلی سے متعلق محکمہ پولیس کی اپیل منظور، پنجاب سروس ٹریبونل کا فیصلہ برقرار

منگل ستمبر 14:27

سپریم کورٹ، پنجاب پولیس کے ملازم محمد شفیع کی تنزلی سے متعلق محکمہ ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 22 ستمبر2020ء) سپریم کورٹ نے پنجاب پولیس کے ملازم محمد شفیع کی تنزلی سے متعلق محکمہ پولیس کی جانب سے دائر اپیل منظور کر تے ہوئے پنجاب سروس ٹریبونل کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔ منگل کو چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے پنجاب پولیس کے ملازم محمد شفیع کی تنزلی سے متعلق محکمہ کی جانب سے دائر اپیل پر سماعت کی۔

دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ رشوت لینے والے ملازم کو کیسے بحال کر سکتے ہیں محکمے نے ریگولر انکوائری کی اور ملازم محمد شفیع کیخلاف جرم ثابت ہوا۔ دوران سماعت پولیس ملازم محمد شفیع کے وکیل نے موقف اپنایا کہ میرے موکل نے رشوت نہیں لی ادھار کا لین دین تھا،ادھار کا جو معاملہ تھا وہ دفتر سے باہر کا تھا جس پر چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ آپ کہتے ہیں تو معاملہ انکوائری کیلئے دوبارہ محکمے کو بھیج دیں آپ خود قبول کر رہے ہیں کہ پیسے لینے دینے کا معاملہ تھا۔

(جاری ہے)

دوران سماعت پولیس ملازم محمد شفیع نے موقف اپنایا کہ میں ہر قسم کا حلف دینے کیلئے تیار ہوں کہ میں نے رشوت نہیں لی، میرا ادھار لینے دینے کا معاملہ تھا جس پر چیف جسٹس گلزار احمد نے پولیس ملازم محمد شفیع سے استفسار کیا کہ آپ جو کہانی سنا رہے ہیں وہ عدالت میں جمع دستاویزات میں کہاں لکھا ہی ۔ دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے ملازم محمد شفیع کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ بہتر ہے جو تنزلی ہوئی ہے اسی پر متفق ہو جائیں۔

واضح رہے کہ پولیس ملازم محمد شفیع کو محکمہ نے رشوت کے الزام میں تنزلی کر کے سپرنٹنڈنٹ سے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ بنا دیا تھا ،پنجاب سروس ٹربیونل نے پولیس ملازم محمد شفیع کی محکمانہ فیصلے کے خلاف دائر اپیل مسترد کر دی تھی۔کریمنل کورٹ نے صلح کی بنیاد پر ملازم محمد شفیع کو عہدے پر بحال کر دیا تھا ،محکمہ پنجاب پولیس نے کریمنل کورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔