آزاد کشمیر میں بچی سے زیادتی کے ملزمان کو بطور سزا نا مرد بنانے کا اعلان

2 رشتہ داروں نے 10 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کی تھی،قانون کے مطابق نامرد بنایا جائے گا

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان بدھ ستمبر 15:48

آزاد کشمیر میں بچی سے زیادتی کے ملزمان کو بطور سزا نا مرد بنانے کا اعلان
مظفرآباد (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔23ستمبر 2020ء) آزاد کشمیر میں بچی سے زیادتی کے ملزمان کو بطور سزا نا مرد بنانے کا اعلان کردیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق ہٹیاں بالا کے نواحی گاؤں میں دس سالہ یتیم بچی کو اس کے دو رشتے داروں نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔بچی سے زیادتی کی رپورٹ ملنے کے بعد مقدمہ درج کرکے دونوں درندہ صفت ملزمان کو گرفتار کر کے حوالات میں بند کر دیا گیا ہے جبکہ ڈاکٹرز نے بچی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق کر دی ہے۔

بچی کے ساتھ زیادتی کے بعد جرگے نے معاملے کو رفع دفع کردیا تھا لیکن پولیس واقعہ کی رپورٹ ملنے کے بعد کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کرتے ہوئے ایک ملزم کو میرپور جبکہ دوسرے کو راولاکوٹ سے گرفتار کیا۔بتایا گیا ہے کہ بچی کا والد فوت ہو چکا ہے جبکہ اس کی والدہ ذہنی معذور ہے۔

(جاری ہے)

ایس پی ریاض مغل نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ہم جرگہ داروں کے خلاف بھی کاروائی کریں گے جنہوں نے معاملے کو دبانے کی کوشش کی۔

اس معاملے میں تمام قانونی تقاضے پورے کریں گے اور ملزمان کو نئے قانون کے مطابق نشان عبرت بنانے کے لیے نا مرد بنا دیں گے۔واضح رہے کہ آزاد کشمیر اسمبلی نے بچوں سے جنسی زیادتی میں ملوث مجرمان کو جنسی صلاحیت سے محروم کرنے کا بل پاس کر لیا، بل کی منظوری کے بعد گھناونے جرم میں ملوث افراد کو عمر قید، سزائے موت اور جنسی صلاحیت سے محروم کیے جانے کی سزائیں دی جا سکیں گی۔

بل پاس ہونے کے بعد 18 سال سے کم عمر بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے مجرمان کو سخت ترین سزائیں دی جا سکیں گی۔ بتایا گیا ہے کہ بل متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔ اب اگر صدر آزاد کشمیر اس کی حتمی منظوری دیں گے تو اس مجوزہ قانون کا باقاعدہ نفاذ ممکن ہو پائے گا۔ جس کے بعد عدالت کو اختیار ہو گا کہ 18 سال سے کم عمر بچوں سے جنسی زیادتی میں ملوث مجرمان کو سزائے موت، عمر قید اور جنسی صلاحیت سے محروم کرنے کی سزا دی جائے۔ جبکہ اگر کوئی مجرم بچوں سے جنسی زیادتی کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے، تو اس صورت میں اسے 10 سال تک قید کی سزا ہوگی۔