نصیرآباد ڈویژن پولیس کانسٹیبلان بھرتی

تیسرے مرحلے تحریری ٹیسٹ کا نتیجہ 168گھنٹے گزرنے کے باوجود اعلان نہ ہو سکا { تاخیری نتیجہ پر آئی جی پولیس بلوچستان سے نوٹس لینے کا مطالبہ

بدھ ستمبر 23:27

ڈیرہ مراد جمالی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 23 ستمبر2020ء) نصیرآباد ڈویژن پولیس کانسٹیبلان بھرتی تیسرے مرحلے تحریری ٹیسٹ کا نتیجہ 168گھنٹے گزرنے کے باوجود اعلان نہ ہو سکا دوسرے مرحلے دوڑ میں بے ضابطگیوں کی سوشل میڈیا نشاندہی کے بعد امیدوار پریشان ہوگئے تاخیری نتیجہ پر آئی جی پولیس بلوچستان سے نوٹس لینے کا مطالبہ تفصیلات کے مطابق ضلع نصیرآباد پولیس میں بھرتی ہونے والے امیدواروں سے چیئرمین بھرتی کمیٹی ڈی آئی جی نصیرآباد شہاب عظیم لہڑی ممبران ایس ایس پی نصیرآباد عبدالحئی عامر بلوچ ایس ایس پی جعفرآباد افتخار احمد ودیگر ممبران کی موجودگی میں تحریری ٹیسٹ 17ستمبر کو لیے گئے ہیں لیکن سات روز 168گھنٹے گزرنے کے باوجود تحریری ٹیسٹ کا نتیجہ جاری نہیں کیا گیا ہے جس کی وجہ سے تحریری ٹیسٹ میں شامل ہونے والے امیدواروں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے کیونکہ پولیس بھرتی کے دوڑ میں سوشل میڈیا میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہونے کی وجہ سے امیدوار پریشان نظر آرہے ہیں امیدوار ڈی آئی جی آفیس کے ارد گرد چکر لگاتے پھر رہے ہیں زرائع کے مطابق بھرتی کمیٹی باریک بینی سے سنیئر ٹیم کی موجودگی میں پیپروں کی چیکنگ اور دوڑ کی ویڈیو کا تجزیہ کر رہی ہے بڑے پیمانے پر امیدواروں اور دوڑ کے دوران ڈیوٹی میں شامل پولیس اہلکاروں کی معطلی وگرفتاری کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے پولیس کی لیگل ٹیم کی مشاورت حاصل کی جا رہی ہے امید واروں نے وزیراعلی بلوچستان صوبائی وزیر داخلہ آئی جی پولیس سے تحریری ٹیسٹ کے نیجہ کی تاخیری پر نوٹس لیتے ہوئے نتیجہ جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے دوڑ میں بے ضابطگیاں کرنے والوں اہلکاروں ان کے سہولت کاروں کو معطل کرکے گرفتار کیا جائے زرائع نے مزید تصدیق کی ہے چیئرمین بھرتی کمیٹی نصیرآباد تحریری ٹیسٹ کے پیپروں کی چیکنگ سخت نگرانی میں کر رہے ہیں جبکہ بیرونی سیکورٹی کے انتظامات ایس ڈی پی او ملک غازی عبدالغفار سیلاچی نے سنبھال رکھی ہی