سپریم کورٹ نے سندھ میں تہرے قتل معاملے پر مفرور ملزمان کو دو ہفتوں میں گرفتار کرنے کا حکم دے دیا

جمعرات ستمبر 15:52

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 ستمبر2020ء) سپریم کورٹ نے سندھ میں تہرے قتل معاملے پر مفرور ملزمان کو دو ہفتوں میں گرفتار کرنے کا حکم دیتے ہوئے سندھ پولیس کی رپورٹ کو غیر تسلی بخش قراردیدیا۔ جمعرات کو چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی۔چیف جسٹس نے کہاکہ عدالت میں پولیس نے جو رپورٹ داخل کی ہے وہ ایک رام کہانی ہے۔

ڈی آئی جی حیدر آباد نے کہاکہ مفرورملزمان کو گرفتار کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ڈی جی آئی حیدر آباد نے کہاکہ گرفتاری کے لئے مزید وقت دیا جائے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ آپ دو مفرور ملزمان کو اگلے ہفتے تک گرفتار کرکے لائیں ،آپ کو ایک ہفتے سے زائد کا وقت نہیں دینگے ،اذپ کو اور آپ کے لوگوں کو سب معلوم ہے ، چیف جسٹس نے کہاکہ آپ ہمارے سامنے کس پولیسنگ کی بات کررہے ہیں،آپ ریاستکی مشینری ہیں۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے کہا کہ پولیس والے کاغزوں سے باہر نکلیں،دو ملزمان مفرور ہیں ان کو گرفتار کریں۔ڈی آئی جی حیدر آباد نے کہاکہ ہماری آن گرائونڈ کوششیں جاری ہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ اگر آپ نے ملزمان گرفتار نہیں کئے تو آپ نوکری سے فارغ ہو جائیںگے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ڈی آئی جی صاحب آپ اس عہدے کے لئے اہل نہیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ ملزمان گرفتار نہ کئے تو سب فارغ ہو جائینگے،اپ کی کوششیں کھڈے کھودنے کے برابر ہے۔ انہوںنے کہاکہ آپ کو جو کام دیا گیا ہے وہ کرکے آئیں۔عدالت نے کہاکہ پولیس کی جمع کرائی گئی رپورٹ غیر تسلی بخش ہے،مفرورملزمان کو دو ہفتوں میں گرفتار کیا جائے۔ بعد ازاں سماعت دس ہفتوں تک کے لئے ملتوی کر دی گئی ۔