جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی اپیل پر سماعت ایک ماہ تک ملتوی

عدالت نے درخواستگزار کی فریقین کو نوٹس کرنے کی استدعا مسترد کردی

جمعرات ستمبر 15:52

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 ستمبر2020ء) سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی اپیل پر سماعت ایک ماہ تک ملتوی کر دی جبکہ عدالت نے درخواستگزار کی فریقین کو نوٹس کرنے کی استدعا مسترد کردی۔ جمعرات کو جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی،جسٹس شوکت عزیز صدہقی نیسپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا،عدالت نے درخواست گزار کے وکیل آئین کی شق 211 پر معاو نت طلب کرلی۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے وکیل سے مکالمہ کیاکہ پہلے آرٹیکل 211 کی رکاوٹ کو عبور کریں، بدنیتی، دائرہ اختیاراور دائرہ سماعت پر آپ دلائل دیں۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہ آرٹیکل 211 کے مطابق کونسل کی رپورٹ کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہ یہ عدالت کے سامنے اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے، آپ کو یہ بتانا ہوگا کہ آئین رپورٹ کو چیلنج کرنے کی اجازت کیوں نہیں دیتا۔

(جاری ہے)

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہ کیا آپ آئین میں ترمیم کی بات کررہے ہیں، انڈیا کی مثال ہمارے سامنے ہے وہاں کیا کھچڑی بن چکی ہے، ممکن ہے کہ عدالت آرٹیکل 211 کی تشریح کرے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہ کیس کی سماعت ایک ماہ تک ملتوی کرتے ہیں، تب تک جسٹس قاضی فائز عیسی کیس کا فیصلہ ا آ جائیگا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کا فیصلہ آجائیگا تو اپ کے پاس دلائل کے لئے مواد مہیا ہوجائیگا۔حامد خان نے استدعا کی کہ اس درخواست میں نوٹس جاری کریں۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ جن کو نوٹس جاری کرنا ہے وہ سب لوگ یہاں عدالت میں موجودہیں۔