زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد آصف تنویر نے کہا ہے کہ زرعی فصلات کی پیداواریت میں کھادیں 40 فی صد حصہ ڈالتی ہیں لہٰذا کسانوں کو کھا دوں کے بر وقت اور متناسب استعمال پر بھر پور توجہ دینا ہو گی

ان باتوں کا اظہار انہوں نے یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف سوائل اینڈ انوائر نمنٹل سائینسز کے زیر اہتمام کسانوں کے لئے تربیتی ورکشاپ سے بطور مہمان خصوصی اپنے خطاب کے دوران کیا

ہفتہ اکتوبر 13:33

زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد آصف تنویر ..
فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 اکتوبر2020ء) زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد آصف تنویر نے کہا ہے کہ زرعی فصلات کی پیداواریت میں کھادیں 40 فی صد حصہ ڈالتی ہیں لہٰذا کسانوں کو کھا دوں کے بر وقت اور متناسب استعمال پر بھر پور توجہ دینا ہو گی۔ ان باتوں کا اظہار انہوں نے یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف سوائل اینڈ انوائر نمنٹل سائینسز کے زیر اہتمام کسانوں کے لئے تربیتی ورکشاپ سے بطور مہمان خصوصی اپنے خطاب کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں زرعی اجناس کی بھر پور پیداوار کے حصول کے لئے ہائبرڈ کھادیں متعارف کرائی گئی ہیں جن کے ا ستعمال سے پیداواریت میں اضافے کے ساتھ ساتھ بیماریوں کا تدارک بھی یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی زراعت کے شعبہ سے وابستہ مختلف تحقیقی و توسیعی اداروں کے علاوہ نجی شعبہ کے ماہرین کو مربوط طریقہ کار کے تحت کسانوں کے ساتھ مشاورت کے عمل کو آگے بڑھا رہی ہے تاکہ بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔

(جاری ہے)

انسٹی ٹیوٹ آف سوائل اینڈ انوائرنمٹل سائینسز کے ڈائریکٹر اور یونیورسٹی کے چیف آف ہال وارڈن، پروفیسر ڈاکٹر محمد یٰسین نے کہا کہ دنیا میں تمام چیزوں اور فریقین کے لئے عالمی دن منائے جاتے ہیں جبکہ دنیا کو بھوک، افلاس اور قحط سے بچانے والے کسانوں کا کوئی دن متعین نہیں تھا جسے فاطمہ گروپ اور دیگر پاکستانی اداروں نے مل کر 18 دسمبر کو بین الاقوامی دن برائے کسان  تسلیم کروا لیا ہے، جو کہ خوش آئند اقدام ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملکی سطح پر زراعت کے شعبے میں سرمایہ کاری اور تحقیقی پیش رفت نہ ہونے کی وجہ سے ہمارا کسان دیگر ممالک کے مقابلے میں انتہائی کم پیداوار حاصل کر رہا ہے جو کہ ایک تشویش ناک امر ہے۔ ڈاکٹر محمد یسٰین نے کہا کہ ہمارا کسان سال میں ایک بار پانی نہ ہونے کی وجہ سے شدید مشکلات سے دوچار ہوتا ہے جبکہ اسی سال سیلاب کی تباہ کاریوں کی وجہ سے اپنی ساری محنت ضائع کر بیٹھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گندم کی 42 فی صد پیداوار جڑی بوٹیوں کی وجہ سے کم رہتی ہے جس کے لئے ہمیں جدید خطوط پر اس مسئلہ کے حل کے لئے توجہ دینا ہو گی۔ فاطمہ گروپ کے ریجنل سیلز مینیجر، محمد ارشد اشرف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا گروپ عام روائتی کھادوں کی بجائے خاص کیمسٹری کی حامل کھادیں تیار کر رہا ہے جس سے 10 فی صد زائد پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ ونگ کی جانب سے گندم کے ہائبرڈ سیڈ کا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے جس کے ذریعے 120 من فی ایکڑ پیداوار حاصل کی جا سکے گی۔ ڈائریکٹر فارمز، پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کے تحقیقی فارمز پر نئی جدتوں کو متعارف کرایاجا رہا ہے تاکہ طلبہ کو مستقبل کے چیلنجز سے مقابلے کے لئے تیار کیا جا سکے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شعبہ ایگرانومی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر، ڈاکٹر تسنیم خالق نے کھادوں کے موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں استعمال اور زمین کی تیاری کے حوالے سے کسانوں کو آ گاہ کیا۔ فاطمہ گروپ کے ٹیکنیکل سروسز آفیسر، منظور حسین نے یونیورسٹی کے ساتھ مختلف فصلات بالخصوص مکئی کی پیداوارمیں اضافے کے حوالے سے مختلف ٹرائیلز کے بارے میں کاشتکاروں کو تفصیلات بتائیں۔ اس موقع پر کسانوں کو فاطمہ گروپ کے اشتراک سے لگائے گئے مکئی کے نمائشی پلاٹس کا دورہ بھی کرایا گیا اور انہیں نئے رحجانات کے عملی اقدامات سے روشناس کرایا گیا۔