ایران سے ٹماٹر اور پیاز درآمد کی اجازت دینا خوش آئند ہے: میاں زاہد حسین

دیگر ممالک سے بھی اشیائے خورد و نوش درآمد کرنے کی اجازت دی جائے، مہنگائی بے قابو ہو چکی ہے، کنٹرول مکینزم میں تبدیلی کی جائے

Umer Jamshaid عمر جمشید بدھ اکتوبر 17:26

ایران سے ٹماٹر اور پیاز درآمد کی اجازت دینا خوش آئند ہے: میاں زاہد حسین
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 اکتوبر2020ء) پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے مہنگائی میں کمی کے لئے ایران سے ٹماٹر اور پیاز کی درآمد کی اجازت دینا خوش آئند ہے۔ اس فیصلے سے آئندہ چند روز میں ملک بھر میں ٹماٹر اور پیاز کی قیمتوں کمی آجائے گی کیونکہ ایران سے درجنوں ٹرک پاکستان پہنچ گئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ مہنگائی کے خلاف کئے گئے تمام اقدامات لا حاصل رہے ہیں اس لئے حکومت تمام پڑوسی ممالک سے اشیائے خورد و نوش درآمد کرنے کی اجازت دے اور درآمدی نظام کو سہل بنائے تاکہ انکی قیمتیں بھی کم کی جا سکیں۔ میاں زاہد حسین نے بزنس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ مہنگائی بے قابو ہو چکی ہے اور قیمتوں پر نظر رکھنے کا نظام ناکام ہو چکا ہے اس لئے مہنگائی پر قابو پانے کے لئے نیا پرائس کنٹرول مکینزم بنایا جائے اور معیشت کے مسلمہ اصولوں سے انحراف نہ کیا جائے۔

(جاری ہے)

مہنگائی میٹنگز، بیانات اور سماجی رابطے کی ویب سائیٹس پر بیانات اور ٹاک شوز میں شرکت سے نہیں جائے گی بلکہ اس کے لئے حکومت کو تمام وسائل بروئے کار لانا ہونگے۔ منڈیوں کے لئے ایک مستحکم متوازن اور موثر نظام کی ضرورت ہے جو کاروباری برادری کے ساتھ عوام کے مفادات کا تحفظ کرنے کے قابل ہو۔ سبزی منڈیوں اور فروٹ منڈیوں کی کڑی نگرانی کی جائے اور قیمتوں پر منفی انداز میں اثر ڈالنے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے جبکہ یوٹیلیٹی ا سٹورز کی حالت زار کا نوٹس بھی لیا جائے جہاں سے عوام کو کچھ بھی سستا نہیں مل رہا ہے جو گورنس کی ناکامی ہے۔

اتوار بازاروں اور سستے بازاروں کو عضو معطل بنانے والے عناصر کا تعین کر کے انکے خلاف سخت کاروائی کی جائے تاکہ عوام کی مسلسل بحرانوں سے نجات ملے اور انکا اضطراب کم ہو۔ انھوں نے کہا کہ کھانے پینے کے شعبے میں طاقتور مافیا کو لگام نہ دینا حیران کن ہے جبکہ گندم اور چینی کی درآمد میں غیر ضروری تاخیر سے بحران بڑھا ہے۔فلور ملز مالکان کو ہراساں کرنے کی بجائے گندم کا کوٹہ بڑھا یا جائے تاکہ ما رکیٹ میںآ ٹے کی سپلائی بہتر ہو ۔کے الیکٹرک کے لئے بجلی کے نرخ بڑھنے سے بہت سی اشیاء کی قیمت بڑھ جائے گی اس لئے اس فیصلے کو واپس لینے پر بھی غور کیا جائے۔