آئی جی پولیس سندھ مشتاق مہر15 روز کی چھٹی پر چلے گئے

ایڈیشنل آئی جی نے بھی دو ماہ کی چھٹی کی درخواست دے دی ہے، آئی جی نے وزیراعلیٰ سندھ کو رپورٹ دی تھی کہ ان کیپٹن ر صفدر کی گرفتاری کیلئے دباؤ تھا۔ ذرائع

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ منگل اکتوبر 17:46

آئی جی پولیس سندھ مشتاق مہر15 روز کی چھٹی پر چلے گئے
کراچی (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 اکتوبر2020ء) آئی جی پولیس سندھ مشتاق مہر 15روز کی چھٹی پر چلے گئے ہیں، ایڈیشنل آئی جی نے بھی دو ماہ کی چھٹی کی درخواست دے دی ہے، آئی جی نے وزیراعلیٰ سندھ کو رپورٹ دی تھی کہ ان کیپٹن ر صفدر کی گرفتاری کیلئے دباؤ تھا۔ ذرائع کے مطابق آئی جی پولیس سندھ مشتاق مہر15 روز کی چھٹی پر چلے گئے ہیں۔ کچھ کا کہنا ہے کہ آئی جی سندھ آج دفتر بھی نہیں آئے جبکہ وہ غیرمعینہ مدت کیلئے چھٹی پر گئے ہیں۔

اسی طرح ا یڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ نے بھی دو ماہ کی چھٹی کی درخواست دے دی ہے۔ ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ نے بھی دو ماہ کی چھٹی کی درخواست دے دی ہے۔بتایا گیا ہے کہ عمران یعقوب بھی اپنی نوکری سے دلبرداشتہ ہوگئے ہیں۔ ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ عمران یعقوب نے اپنی درخواست میں مئوقف اختیار کیا کہ سندھ پولیس کے کام میں بے جا مداخلت ہوئی ہے۔

(جاری ہے)

کیپٹن ر صفدر کی ایف آئی آر کے واقعے میں پولیس افسران کو بے عزت کیا گیا۔ دباؤ کے اس ماحول میں پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی مشکل ہے۔ اس دباؤ سے نکلنے کیلئے مجھے 60 روز کی رخصت چاہیے۔ ایسے ماحول میں کام نہیں کرسکتا۔ چھٹی کی درخواست دینے والوں میں سی سی پی او کراچی غلام نبی میمن، ڈی آئی جی لاڑکانہ ناصر آفتاب، ڈی آئی جی ساؤتھ جاوید اکبر، ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرزثاقب اسماعیل میمن، ڈی آئی فنانس ذوالفقار مہر، ڈی آئی جی ویسٹ عاصم خان،ڈی آئی جی اسپیشل برانچ قمر الزماں، ایس ایس پی انٹیلی جنس توقیر نعیم ،ایس ایس پی ایسٹ ساجد سدوزئی، ایس ایس پی سکھر عرفان علی سموں، ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو،ایس ایس پی ویسٹ فدا حسین، ایس ایس پی سنٹرل عارف راؤ اسلم، ڈاکٹر اجمل سمیت دیگر افسران شامل ہیں۔

دوسری جانب بتایا گیا ہے کہ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کچھ اہم حقائق سے پردہ اٹھانے کیلئے خود پریس کانفرنس کریں گے۔ اس سے قبل وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے پریس کانفرنس میں مسلم لیگ (ن) کے رہنماء کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری سے متعلق معاملے کی تحقیقات کے لیے وزراء پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا اعلان کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ جو کچھ ہوا اس کی انکوائری لازمی ہے، رفقا کے صلاح مشورے سے فیصلہ کیا ہے کہ حکومت سندھ اس معاملے کی تحقیقات کرے گی جس میں 3 سے 5 وزرا شامل ہوں گے تاہم ابھی ناموں کو حتمی شکل نہیں دی گئی کراچی میں وزیراعلیٰ ہاﺅس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم پولیس اور اداروں سے پوچھیں گے اور معاملے کے صحیح حقائق سامنے لائیں گے جبکہ اس کمیٹی میں وہ ارکان ہوں گے جن کا اس معاملے کے وقت میں کوئی کردار نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کمیٹی سب کو تفتیش کے لیے بلا کر حکومت کے لیے ایک نقطہ نظر تشکیل دے گی اور اس سے پہلے کوئی بات کرنا مناسب نہیں ہے۔